خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 251
251 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرمودہ 27 جون 2008 کے چہروں پر ان کی نشانی ہے۔پس یہ ان مومنین کی نشانی ہے جو آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالی نے عطا فرمائے اور جن کا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اعلان فرمایا۔اور اس زمانے میں اس قسم کے عباد الرحمن بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کو مبعوث فرمایا جنہوں نے وہ پاک جماعت پیدا فرمائی جس نے وہ عبادالرحمن پیدا کئے جنہوں نے اولین سے ملنے کے نمونے قائم کئے۔آپ نے مسلسل نصیحت اور تعلیم کے ذریعے جماعت میں ایسے پاک وجود پیدا کرتے چلے جانے کی طرف توجہ دلائی جن کا مقصد حیات اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانا اور اس کے آگے جھکنا تھا اور جھکنا ہے۔آپ نے اپنی جماعت کو ایسے مومن بننے کی طرف توجہ دلائی جو خدا کی نگاہ میں حقیقی مومن ہیں۔جن کی غرض عبادتوں کے اعلیٰ معیار پیدا کرنا ہے۔آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : جو لوگ خدائے تعالیٰ کے نزدیک فی الحقیقت مومن ہیں اور جن کو خدائے تعالیٰ نے خاص اپنے لئے چن لیا ہے اور اپنے ہاتھ سے صاف کیا ہے اور اپنے برگزیدہ گروہ میں جگہ دے دی ہے اور جن کے حق میں فرمایا ہے سنیما هُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُوْدِ (الفتح :30) ان میں آثار سجود اور عبودیت کے ضرور پائے جانے چاہئیں کیونکہ خدائے تعالیٰ کے وعدوں میں خطا اور تختلف نہیں“۔آسمانی فیصلہ۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 32-322 ) پس اگر ہمارا دعوی ہے کہ ہم زمانے کے امام پر ایمان لائے تو ہمارے سجدے اور ہماری عبادتیں اس ایمان کی گواہ ہونی چاہئیں ہمیں وہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار مختلف موقعوں پر اور مختلف طریق سے ہمیں وہ معیار حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس کے حقیقی عبادت گزاروں میں ہمیں شامل کر دے۔ہماری عبادتیں صرف کھوکھلی عبادتیں نہ رہیں اور ہمارے ایمان صرف ظاہری ایمان نہ ہوں بلکہ ان حدود کو چھونے والے ہوں ، جہاں خدا تعالیٰ اپنے بندے کی زبان بن جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے۔اس کے ہاتھ بن جاتا ہے جس سے وہ مختلف امور سرانجام دیتا ہے۔اس کے پاؤں بن جاتا ہے، جس سے وہ چلتا ہے، نیکیوں کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔ہر مشکل موقع پر خدا تعالیٰ اپنے بندے کے کام آتا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا یہ معیار حاصل کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں تحریر و تقریر کے ذریعہ نصیحت فرمائی اور اس مقصد کے حصول کے لئے آپ نے جلسوں کا اہتمام فرمایا۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : تمام مخلصین داخلین سلسلہ بیعت اس عاجز پر ظاہر ہو کہ بیعت کرنے سے غرض یہ ہے کہ تا دنیا کی محبت