خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 243
خطبات مسرور جلد ششم 243 خطبه جمعه فرموده 20 جون 2008 ضرورت ہے۔جب انسان خدا کی محبت اور اس کا خوف دل میں رکھتے ہوئے اس کی طرف بڑھنے کی کوشش کرے گا تو پھر اللہ تعالیٰ وہ طریقے بھی سکھائے گا جس سے یہ برتن زیادہ سے زیادہ چمک دکھا سکے۔آج کل تو برتنوں کو صاف کرنے کے لئے دنیا میں اور اس مغربی دنیا میں خاص طور پر مختلف قسم کے صابن ہیں یا کیمیکلز ہیں۔ان کو ہم اس لئے استعمال کرتے ہیں کہ برتن چمک جائیں، ان کی اس طرح صفائی ہو جائے کہ ہر قسم کا گند صاف ہو جائے، کوئی چکناہٹ باقی نہ رہے بلکہ جراثیم بھی مر جائیں۔بلکہ بعض ایسے کھانے جن کی بُو رہ جاتی ہے ان کی بُو دور کرنے کے لئے بھی خاص محنت کی جاتی ہے۔بعض گھر یلو خواتین انڈے یا مچھلی کے برتن علیحدہ رکھ کر دھوتی ہیں اور اس کے لئے خاص محنت کرتی ہیں کہ اکٹھے دھونے سے کہیں دوسرے برتنوں میں بونہ چلی جائے۔تو دنیاوی برتنوں کے لئے تو ہم اتنا تر ڈد کرتے ہیں، محنت کرتے ہیں، مختلف قسم کے صابن تلاش کرتے ہیں اور یہ وہ برتن ہیں جو اکثر انسان کی زندگی میں اس کے سامنے ٹوٹ جاتے ہیں اور اس کے کسی کام نہیں آتے یا اگر بچ بھی جائیں تو انسان کے ساتھ نہیں جاتے۔ان برتنوں کی خاطر تو اتنی محنت کی جاتی ہے۔لیکن وہ برتن جو انسان کے دل کا برتن ہے۔جس کو تقویٰ سے صاف کرنے کا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، جس میں رکھی گئی نیکیوں، حقوق اللہ اور حقوق العباد نے خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہوتا ہے، جس نے مرنے کے بعد بھی ہمارے کام آنا ہے۔اور صرف یہی نہیں بلکہ اس برتن میں رکھی گئی نیکیوں نے ہماری نسلوں کے بھی کام آنا ہے۔اگر ہمارے برتن صاف ہوں گے اور نیکیوں سے بھرے ہوں گے تو سعید فطرت اولا دبھی ان برتنوں کی صفائی کی طرف توجہ دے گی۔خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کوشاں رہے گی۔پس تقویٰ سے صاف کئے ہوئے برتن میں رکھے ہوئے کھانے کبھی نہ خراب ہونے والے کھانے ہیں۔اور نہ ہی وہ کھانے ہیں جن سے کسی بھی قسم کی بیماری پیدا ہو۔بلکہ یہ وہ کھانے ہیں جن سے جسم کو طاقت ملتی ہے۔ایسی طاقت ملتی ہے جو ہمیشہ قائم رہنے والی طاقت ہے، جس سے مزید نیکیاں سرزد ہوتی ہیں ،مزید عمدہ کھانے اس میں پڑتے چلے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے دروازے مزید کھلتے چلے جاتے ہیں اور انسان نفس امارہ کی وادیوں میں بھٹکنے کی بجائے خدا تعالیٰ کی پناہ کے مضبوط قلعے میں آجاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تقویٰ کے مضمون کو ایک جگہ یوں بھی بیان فرمایا ہے، آپ فرماتے ہیں کہ: قرآن کریم میں تمام احکام کی نسبت تقویٰ اور پر ہیز گاری کے لئے بڑی تاکید ہے۔وجہ یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک بدی سے بچنے کے لئے قوت بخشتی ہے۔اور ہر ایک نیکی کی طرف دوڑنے کے لئے حرکت دیتی ہے اور اس قدر تاکید فرمانے میں بھید یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک باب میں انسان کے لئے سلامتی کا تعویذ ہے اور ہر ایک قسم کے فتنے سے محفوظ رہنے کے لئے حصن حصین ہے۔ایک مضبوط قلعہ ہے۔” ایک منتقی انسان بہت سے ایسے فضول اور خطرناک