خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 244
خطبات مسرور جلد ششم 244 خطبه جمعه فرموده 20 جون 2008 جھگڑوں سے بچ سکتا ہے جن میں دوسرے لوگ گرفتار ہو کر بسا اوقات ہلاکت تک پہنچ جاتے ہیں۔اور اپنی جلد بازیوں اور بدگمانیوں سے قوم میں تفرقہ ڈالتے اور مخالفین کو اعتراض کا موقع دیتے ہیں“۔الصد ایام اصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 342) پس ہم میں سے ہر ایک کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس درد کو محسوس کرنا چاہئے جو آپ نے بیان فرمایا ہے۔سرسری طور پر آپ کی اس بات کو سن کر صرف یہ رد عمل ہم نے ظاہر نہیں کرنا کہ کس عمدہ الفاظ میں آپ نے تقویٰ کی تعریف فرمائی ہے بلکہ ہمیں اپنے دلوں کو ٹولنے کی ضرورت ہے۔اس ہلاکت سے بچنے کی ضرورت ہے جس کی طرف آپ نے نشاندہی فرمائی ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اُس جہاد کی ضرورت ہے جس کی طرف خدا تعالیٰ نے توجہ دلاتے ہوئے ہمیں فرمایا کہ تم اگر میری رضا کے حصول کے لئے کوشش کرو گے تو یقینا میں تمہیں اپنی پناہ میں لیتے ہوئے ان راستوں کی طرف تمہاری راہنمائی کروں گا جن پر چل کر تم دنیاو آخرت میں اپنے لئے محفوظ اور مضبوط پناہ گا ہیں تعمیر کر رہے ہو گے۔پس کس قدر خوش قسمت ہیں ہم اور اس بات پر کس قدر ہمیں اپنے خدا کا شکر گزار ہونا چاہئے اُس خدا کا کہ جس نے صرف اتنا ہی نہیں کہا کہ میرے راستوں کی طرف آنے کی کوشش کرو بلکہ اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کے ذریعے اُن راستوں کی صفائی کر کے، اُن پر سمتوں کے تعین کے بورڈ آویزاں کر کے، ان پر اندھیرے میں روشنی مہیا کر کے راہنمائی فرمائی ہے کہ یہاں شیطان بیٹھا ہے، اس سے کس طرح بچنا ہے۔یہ راستے تمہیں خدا کی طرف لے جانے والے ہیں۔جس طرح کہ جو اقتباس میں نے پڑھا تھا اس میں آپ نے فرمایا کہ تقویٰ میں سرگرمی اختیار کرو۔اور پھر یہ کہ اس تقویٰ میں سرگرمی کس طرح اختیار کرنی ہے۔ان نیکی کے راستوں کو کس طرح اختیار کرنا ہے۔نفس امارہ کے برتن کو صاف کرنے کے لئے کیا طریق اختیار کرنے ہیں۔فرمایا کہ نرم دل ہو جاؤ۔اور نرم دلی کس طرح اختیار کرنی ہے۔اس کے کیا معیار حاصل کرنے ہیں۔اس بارے میں بھی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ : اگر کوئی میرا دینی بھائی اپنی نفسانیت سے مجھ سے کچھ سخت گوئی کرے تو میری حالت پر حیف ہے کہ اگر میں بھی دیدہ و دانستہ اس سے سختی سے پیش آؤں۔بلکہ مجھے چاہئے کہ میں اس کی باتوں پر صبر کروں اور اپنی نمازوں میں اس کے لئے رو رو کر دعا کروں کیونکہ وہ میرا بھائی ہے اور روحانی طور پر بیمار ہے۔اگر میرا بھائی سادہ ہو یا کم علم یا سادگی سے کوئی خطا اس سے سرزد ہو تو مجھے نہیں چاہئے کہ میں اس سے ٹھٹھا کروں یا چیں بر جبیں ہوکر تیزی دکھاؤں یا بد نیتی سے اس کی عیب گیری کروں کہ یہ سب ہلاکت کی راہیں ہیں۔کوئی سچا مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل نرم نہ ہو۔جب تک وہ اپنے تئیں ہر ایک سے ذلیل تر نہ سمجھے اور ساری مشینیں دور نہ ہو جائیں۔خادم القوم ہونا