خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 242
خطبات مسرور جلد ششم 242 خطبه جمعه فرموده 20 جون 2008 ایک نمونہ بن جائیں اور انکسار اور تواضع اور راستبازی ان میں پیدا ہو اور دینی مہمات کے لئے سرگرمی اختیار کریں۔( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل۔اشتہار التوائے جلسہ 27 دسمبر 1893 ء صفحہ 360 مطبوعہ ربوہ ) تو یہ ہیں وہ معیار جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم میں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ہم میں سے بہت سوں نے یہ اقتباس کئی دفعہ سنا بھی ہوگا اور پڑھا بھی ہوگا، لیکن دنیا کے دھندے ہمیں پھر اس بات سے دور لے جاتے ہیں، ہم بھول جاتے ہیں کہ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے۔بہر حال یہ انسانی فطرت بھی ہے کہ انسان بھول جاتا ہے، کمزوریاں بھی پیدا ہوتی ہیں اور شیطان نے اللہ کے بندوں کو صحیح راستے سے ہٹانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے کا اعلان بھی کیا ہوا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ نصیحت کرتے چلے جائیں۔مومنوں کو نصیحت فائدہ دیتی ہے۔تا کہ کمزوریاں دُور کرنے اور شیطان سے بچنے کے نئے نئے طریقے ان کو ملتے چلے جائیں۔اور یہی کام اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام کو جاری رکھنے کے لئے بھیجا ہے اور یہی کام خلافت کا ہے تاکہ نصیحتوں سے اَطِيْعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ ( النساء: 60) کرنے والے پیدا ہوتے چلے جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس اقتباس میں جو میں نے پڑھا ہے ان باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو اگر ایک احمدی سمجھ لے اور اس پر عمل شروع کر دے تو یہ دنیا جنت نظیر بن سکتی ہے۔پھر ہم بھی اور ہماری نسلیں بھی پنے مقصد پیدائش کو سمجھنے والے بن جائیں۔پہلی بات آپ نے یہ فرمائی ہے۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ تقویٰ۔اور تقویٰ کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: تقویٰ تو صرف نفس امارہ کے برتن کو صاف کرنے کا نام ہے اور نیکی وہ کھانا ہے جو اس میں پڑنا ہے اور جس نے اعضاء کو قوت دے کر انسان کو اس قابل بنانا ہے کہ اس سے نیک اعمال صادر ہوں اور وہ بلند مراتب قرب الہی کے حاصل کر سکے۔( ملفوظات جلد 3 حاشیہ صفحہ 503 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس پہلی بات تو یہ کہ تقویٰ ہوگا، خدا تعالیٰ کا خوف ہوگا، اس کی ہستی پر یقین ہوگا تو انسان کی توجہ اپنے دل کی صفائی کی طرف رہے گی۔اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف رہے گی۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس مضمون کو اس طرح بھی بیان فرمایا ہے کہ وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت: 70 ) اور وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں، ہم ان کو ضرور اپنے راستوں کی طرف آنے کی توفیق بخشیں گے۔پس تقویٰ پیدا کرنے کے لئے ، اس برتن کو صاف کرنے کے لئے پہلے محنت کی