خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 241 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 241

241 خطبه جمعه فرمود و 20 جون 2008 خطبات مسرور جلد ششم وجہ سے کچھ عرصہ کے بعد کرائے کی جگہ پر جلسے منعقد کرنے پڑرہے ہیں۔اس لئے آج ہم یہاں جمع ہیں، جو کرائے کی جگہ ہے۔اب آپ لوگ بھی اس بات کو محسوس کرتے ہوئے بڑے رقبہ کی تلاش میں ہیں تا کہ اپنی جگہ پر جلسے منعقد کرسکیں۔یہ سب باتیں ایک سوچنے والے ذہن میں یقیناً یہ بات راسخ کرتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کے وعدے بچے تھے۔یہی امریکہ جس میں جب پہلے مبلغ بھیجے گئے تو انہیں نظر بند کر دیا گیا۔تبلیغ کی اجازت نہیں دی گئی۔لیکن خدا تعالیٰ کی تقدیر کے آگے تو کوئی روک کھڑی نہیں ہو سکتی۔اللہ تعالیٰ نے روکیں دُور فرما دیں اور آج آپ بھی جلسہ گاہ کے لئے جیسا کہ میں نے پہلے کہا، زمین کی تلاش میں ہیں اور 1200,100 ایکٹر زمین خریدنے کی باتیں کرنے لگ گئے ہیں۔لیکن یہ بات ہمیشہ ہر ایک کو اپنے پیش نظر رکھنی چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جلسہ سے مقصد بڑی بڑی زمینیں خریدنا یا حاضری بڑھانا نہیں تھا، اپنے ماننے والوں کی تعداد کا اظہار کرنا نہیں تھا بلکہ تقویٰ میں ترقی کرنے والوں کی جماعت پیدا کرنا تھا۔اللہ تعالیٰ کے عبادت گزار پیدا کرنے والوں کی جماعت بنانا تھا۔حقوق العباد کی ادائیگی کرنے والوں کی ایک فوج تیار کرنا تھا جو دنیاوی ہتھیاروں، توپ و تفنگ سے لیس نہ ہو بلکہ ایسے لوگ ہوں جن کے ماتھوں پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے نشان ظاہر ہوتے ہوں۔جن کے دل خدا تعالیٰ کی مخلوق کی محبت سے لبریز ہوں۔جن کی راتیں تقویٰ سے بسر کی جانے والی ہوں اور جن کے دن خدا تعالیٰ کا خوف لئے ہوئے ڈرتے ڈرتے گزر رہے ہوں۔پس یا د رکھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہو کر ہم بغیر کسی عمل کے عافیت کے حصار میں نہیں آگئے بلکہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی اور جوں جوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ سے دُوری پیدا ہو رہی ہے پہلے سے بڑھ کر اس طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ہر باپ اور ماں کو اپنی نسلوں کو سنبھالنے کے لئے اپنے عملوں کی درستی کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہوگی۔اس مغربی ماحول میں خاص طور پر اور آج کل کے مادی دور میں عموماً دنیا میں ہر جگہ اپنے بچوں کو خدا تعالیٰ کے قریب لانے کا حق ادا کرنے والے اگر ہم نہیں ہوں گے تو اپنے آپ کو بھی اور اپنے بچوں کو بھی عافیت کے حصار سے نکال رہے ہوں گے۔ہمارے منہ تو اللہ اللہ کر رہے ہوں گے مگر ہمارے عمل اس بات کو جھٹلا رہے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ جلسے کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: اس جلسے سے مدعا اور مطلب یہ تھا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے ایک ایسی تبدیلی اپنے اندر حاصل کر لیں کہ ان کے دل آخرت کی طرف بکلی جھک جائیں اور ان کے اندر خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور وہ زہد اور تقویٰ اور خدا ترسی اور پرہیز گاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مواخات میں دوسروں کے لئے