خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 228
خطبات مسرور جلد ششم 228 خطبه جمعه فرموده 6 جون 2008 یہاں ایک بات اور بھی جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا ہے کہ اہل لغت نے بارش کو بھی رزق کہا ہے اور اس کی تائید میں یہی سورۃ جاثیہ کی جو آیت میں نے پڑھی ہے وہ پیش کرتے ہیں تو بہر حال جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں یہ پانی اتارا ہے جس کے بعد لمبی زندگی اور روشنی ہے۔رزق کے ذرائع ہیں۔آنحضرت اللہ کا نور دنیا میں پھیلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کو مبعوث فرمایا ہے۔پس اب دنیا میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے لئے یہی رزق اتارا ہے جس سے روحانی اور مادی بھوک ختم ہوتی ہے یا ہو سکتی ہے اور ہونی ہے۔اس کے لئے ہمارا بھی فرض ہے کہ اس کو زیادہ سے زیادہ دنیا تک پھیلائیں اور پہنچائیں۔ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رِزْقًا لِلْعِبَادِ وَأَحْيَيْنَا بِهِ بَلْدَةً مَّيْتًا كَذَلِكَ الْخُرُوجُ (12:3) که بندوں کے لئے رزق کے طور پر اور ہم نے اس یعنی بارش کے ذریعہ ایک مردہ علاقے کو زندہ کر دیا اسی طرح خروج ہوگا۔یہاں بارش کی مثال دی گئی ہے کہ جس طرح بارش کے آنے سے مردہ زمین زندہ ہو جاتی ہے۔ہر طرف سبزہ نظر آنے لگتا ہے بلکہ بعض دفعہ بظاہر ریگستان نظر آنے والے علاقے اس طرح سرسبز ہو جاتے ہیں کہ لگتا ہی نہیں کہ یہ وہی بنجر علاقے ہیں۔پاکستان میں بھی سندھ میں تھر کا علاقہ ہے۔وہاں خشک موسم میں ریت اڑتی ہے اور اگر بارشیں ہو جائیں تو وہی ریت کے ٹیلے سرسبز پہاڑ نظر آ رہے ہوتے ہیں۔اچانک ایسی تبدیل ہوتی ہے، حیرت ہوتی ہے انہیں دیکھ کے کہ یہ سرسبزی اس زمین سے کس طرح پیدا ہو سکتی تھی۔وہی علاقے جہاں لوگوں کی فاقوں تک نوبت پہنچی ہوتی ہے بارش ہوتے ہی ان کی فصلیں لہلہار ہی ہوتی ہیں اور ان کے رزق کی فراخی ہو جاتی ہے۔اب ہر عقل والا انسان جب سوچتا ہے، چاہے وہ کسی مذہب کا ہو تو اس کے منہ سے بے اختیار اللہ تعالی کی تعریف ہی نکلتی ہے، سبحان اللہ نکلتا ہے۔گوان الفاظ میں نہ سہی۔اس کے رزاق ہونے کی صفت پر کامل یقین پیدا ہوتا ہے۔اگر مومن ہے تو اور بھی زیادہ اس کا ادراک پیدا ہوتا ہے تو کیا یہ زمین جو باوجود خشکی کے ان جڑی بوٹیوں کے بیجوں کو اپنے اندر سمیٹ کے رکھتی ہے اور وقت آنے پر وہ بوٹیاں باہرنکلتی ہیں، یہ کسی بڑے آدمی یا حکومت نے محفوظ رکھا ہوتا ہے؟ کیا بارش برسا نا کسی بھی بڑی حکومت کا کام ہے؟ پس یہ تمام چیزیں ایک مومن کے لئے غور کرنے والی ہیں کہ یہ تمام رزق خدا ہی مہیا فرما تا ہے۔وقتی طور پر ہر ایک اور ہر مذہب والا یہی کہتا ہے جیسا کہ میں نے کہا کہ خدا نے رزق مہیا فرمایا ہے لیکن بعد میں بھول جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ بندوں کو یاد کروارہا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ مردہ زمین سے زندگی نکالتا ہے اسی طرح انسان کے اس دنیا سے جانے کے بعد پھر اسے زندہ کرے گا۔آخرت کی طرف توجہ بھی رکھنا جہاں حساب کتاب بھی ہوگا ، حد سے بڑھی ہوئی حرکتوں اور نبیوں کے انکار اور ان کی جماعت پر ظلموں کی وجہ سے باز پرس بھی ہوگی۔پس اگر آخرت میں اچھے رزق کی خواہش رکھتے ہو، مسلمان کہلاتے ہوئے یہ خواہش رکھتے ہو کہ ہم مسلمان ہیں، ہمیں اچھا رزق ملے ، بعد میں ہمارے ساتھ نرم سلوک ہو تو پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پھر اس دنیا میں بھی