خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 227 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 227

227 خطبہ جمعہ فرمودہ 6 جون 2008 خطبات مسرور جلد ششم جب انسان اس پاک حالت کو حاصل کر لے تو وہ موحد کہلاتا ہے۔غرض ایک حالت تو حید کی یہ ہے کہ انسان پتھروں یا انسانوں یا اور کسی چیز کو خدا نہ بنائے بلکہ ان کو خدا بنانے سے بیزاری اور نفرت ظاہر کرے اور دوسری حالت یہ ہے کہ رعایت اسباب سے نہ گزرے“۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 57-58 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) یعنی ظاہری اسباب بھی ہوں لیکن تو کل اللہ تعالیٰ پہ ہو۔رزاق اللہ تعالیٰ کی ذات کو سمجھا جائے۔یہ بنیادی چیز ہے۔پھر اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَاخْتِلافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ رِزْقٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَتَصْرِيْفِ الرِّيحِ ايْتُ لِقَوْمٍ يَعْقِلُوْنَ (الجاثیہ: 6 ) اور رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں اور اس بات میں کہ اللہ آسمان سے رزق اتارتا ہے۔پھر اس کے ذریعہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے اور ہواؤں کے رخ پلٹ پلٹ کر چلانے میں عقل کرنے والی قوم کے لئے بڑے نشانات ہیں۔اس آیت میں مسلمانوں کے لئے خصوصاً یہ پیغام ہے کیونکہ مسلمانوں کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ قرآن کریم پر ایمان لائے ہیں کہ جس طرح ہم روز رات اور دن کے آنے کو دیکھتے ہیں۔جو کام اور ترقی ہم دیکھتے ہیں دن کی روشنی میں ہوتی ہے وہ رات میں نہیں ہوتی اور اسی طرح روحانی دنیا میں بھی رات اور دن کا دور آتا رہتا ہے۔آنحضرت ﷺ سے پہلے ایک ظلمات کا دور تھا، اندھیرے کا دور تھا جس کو آپ نے آکر روشن کیا۔اور اللہ تعالیٰ سے آخری شریعت پا کر یہ اعلان فرمایا کہ اب یہ روشن کتاب اور کامل شریعت تا قیامت دلوں کی روشنی کا باعث بنے گی۔لیکن ساتھ ہی آپ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ بھی الہی تقدیر ہے کہ میرے بعد ایک دور ظلمت کا آئے گا لیکن اس ظلمت اور اندھیروں کے دور میں بھی اس کامل شریعت کی روشنی مختلف جگہوں پر لیمپ اور دیوں کی صورت میں جلتی رہے گی۔ایسے لوگ ہوں گے جو روشنی بکھیر تے رہیں گے۔اور پھر اس ظلمت کے دور سے آپ کی پیشگوئی کے مطابق مسیح محمدی کے آنے سے پھر تمام دنیا کا روشن ہونا تھا۔اس کے بعد پھر وہ رزق اترنا تھا جس نے مُردہ زمین کو دوبارہ زندہ کرنا تھا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آنے سے پھر وہ پانی آیا جس نے مُردہ زمین کو زندہ کیا اور آنحضرت میہ کی غلامی میں آپ وہ نور لائے جس سے دن دوبارہ روشن ہوا، تاریکیاں دور ہوئیں۔ایک شعر میں اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔کہ ؎ میں وہ پانی ہوں جو آیا آسماں سے وقت پر میں وہ ہوں نور خدا جس سے ہوا دن آشکار پس اب یہ نور اور یہ پانی آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے۔اس سے فیض پانا جہاں ہر مسلمان کا فرض ہے، اس پر عمل کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔اور اتنا ہی فرض ہے جتنا آنحضرت می پر ایمان لانا کیونکہ آپ نے اس آنے والے مہدی ومسیح کو اپنا سلام پہنچانے کا حکم فرمایا تھا۔