خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 229 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 229

229 خطبہ جمعہ فرمودہ 6 جون 2008 خطبات مسرور جلد ششم نیک اعمال کرو۔کیونکہ یہی اعمال، یہی نیکیاں اور یہی کمایا ہوا رزق آخرت میں کام آتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی چادر میں لپیٹتے ہوئے ہمیشہ ان راہوں پر چلنے کی توفیق دے جو اس کی رضا کی راہیں ہیں اور ان لوگوں کو بھی عقل اور سمجھ دے جو حق کو نہیں پہچانتے اور اللہ تعالیٰ کے اشاروں کو نہیں سمجھتے۔دنیا میں مختلف جگہوں پر احمد یوں پر ظلم پر کمر بستہ ہیں۔اپنی رضا کی راہوں اور نیک اعمال کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَأمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا۔لَا نَسْتَلْكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ۔وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوى (طہ: 133 ) اور اپنے گھر والوں کو نماز کی تلقین کرتا رہ اور اس پر ہمیشہ قائم رہ۔ہم تجھ سے کسی قسم کا رزق طلب نہیں کرتے۔ہم ہی تو تجھے رزق عطا کرتے ہیں اور نیک انجام تقویٰ ہی کا ہوتا ہے۔پس اس روحانی رزق کا جو بہترین حصہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے اتارا ہے عبادت اور خاص طور پر نماز میں ہیں جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے تلقین فرمائی ہے۔ہمارا کام ہے کہ اپنے گھروں میں بھی اس بارہ میں اب خاص اہتمام کریں۔خدا اور اس کے رسول کی حکومت قائم کرنے اور خلافت کے انعام سے فیضیاب ہونے کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے نمازوں کی طرف توجہ دلائی ہے اور پھر جو اللہ تعالیٰ نے نمازوں کے ساتھ رزق کا ذکر فرمایا ہے تو اس کی اہمیت بھی اس زمانے میں بہت زیادہ ہے۔یہی زمانہ ہے جس میں رزق کے لئے ایسے ایسے طریقے نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے جو بعض دفعہ حلال اور جائز نہیں ہوتے۔ایسے کام ہیں جو اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے خلاف ہیں۔پس اپنے نیک انجام اور اللہ تعالیٰ کی جنتوں کا وارث ہونے کے لئے قیام نماز کی ضرورت ہے اور رزق حلال کی ضرورت ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔بلکہ نماز پر قائم رہنے والوں یعنی خالص ہو کر عبادت کرنے والوں کو رزق حلال کی طرف متوجہ رہنے کی بھی ضمانت ہے۔اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ ہم تم سے رزق طلب نہیں کرتے۔اس پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سوال اٹھایا کہ ایک طرف تو چندہ کے لئے اللہ تعالیٰ کہتا ہے۔مالی قربانیوں کے لئے کہا جاتا ہے اور یہاں اللہ تعالیٰ کہہ رہا ہے کہ تم سے کسی قسم کا رزق طلب نہیں کرتے تو اس کا کیا جواب ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ چندہ جولیا ہے وہ بھی اس نیکی کی وجہ سے کئی گنا کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوٹانے کا وعدہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اتنا بڑھا کر دیتا ہے کہ جس کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔پس خدا تعالیٰ جو لیتا ہے وہ اس لئے نہیں کہ اسے ضرورت ہے بلکہ اس لئے کہ تمہاری اس نیکی کی وجہ سے کئی گنا بڑھا کر وہ تمہیں واپس کرے اور کیونکہ یہ سب عمل تقویٰ کو سامنے رکھتے ہوئے تقویٰ کے حصول کے لئے کئے جاتے ہیں اس لئے اس کا انجام اس دنیا میں بھی نیک ہے اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے اور اس کی جنت کے وارث بننے کا ذریعہ ہے۔اللہ تعالیٰ تقویٰ پر چلاتے ہوئے ہمارے ہر عمل کو اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی نیک انجام کے حاصل کرنے والا بنائے اور اپنے بہترین رزق سے ہر آن ہمیں نوازتا رہے۔الفضل انٹر نیشنل جلد نمبر 15 شمارہ نمبر 26 مورخہ 27 جون تا3 جولائی 2008 صفحہ 5 تا 8)