خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 158
158 خطبه جمعه فرموده 11 اپریل 2008 خطبات مسرور جلد ششم انعامات کو دور کر دیتی ہیں۔بلکہ ان برائیوں کی وجہ سے ایک انسان اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا ہونے کی بجائے شیطان کی گود میں چلا جاتا ہے۔پس یہ نیکیاں حاصل کرنا، ان نیکیوں کو حاصل کرنے کے لئے سفر کرنا اور ان نیکیوں کو پھیلانے کے لئے سفر کرنا ، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنتا ہے۔کیونکہ اس ذریعہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی حکومت دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے اور اس کے لئے کوشش کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب یہ حالت میرے بندوں کی ہو جائے تو اس کے لئے خوشخبری ہے اور ایسی خوشخبری ہے کہ وہ آئندہ خوشخبریاں دیتی چلی جائے گی۔اللہ کرے کہ ہمارے حضر بھی اور ہمارے سفر بھی نیکیاں پھیلانے، نیکیاں کرنے اور خدا تعالیٰ کی حکومت دنیا میں قائم کرنے کے لئے ہوں تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتے ہوئے اس کے انعامات حاصل کرنے والے ہوں۔دو تین دن تک انشاء اللہ تعالیٰ میں بھی ایک سفر شروع کرنے والا ہوں جو مغربی افریقہ کے تین ممالک کا ہے یعنی گھانا، بین اور نائیجیریا کا۔ان ملکوں کے پروگرام خلافت جو بلی کے حوالے سے پہلے پروگرام ہیں جن میں میں شامل ہونے جارہا ہوں۔انشاء اللہ۔اب اس کے ساتھ ہی مختلف ممالک میں پروگرام ہونے ہیں۔بعض ملکوں میں میں شامل ہوں گا انشاء اللہ تعالیٰ اور یہ سال تقریباً اس لحاظ سے مصروفیت اور سفر کا سال ہے۔دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کی جو گزشتہ سو سال سے زائد عرصہ سے جماعت احمدیہ پر بارشیں ہوئیں اور ہو رہی ہیں وہ ہماری عبادتوں کے معیار بھی بڑھانے والی ہوں ، ہماری عاجزی کے معیار بھی بڑھانے والی ہوں ، نیکیوں کو پھیلانے اور برائیوں کو روکنے کی طرف ہم پہلے سے زیادہ توجہ دینے والے ہوں اور خاص طور پر میرا ہر سفر اس مقصد کے حصول کے لئے اللہ تعالی کی تائید و نصرت لئے ہوئے ہو۔اللہ تعالیٰ دوران سفر بھی حافظ و ناصر ہو اور جس جگہ پہنچیں وہاں بھی اپنی قدرت کے خاص نظارے دکھائے۔ہم تو عاجزا اور کمزور بندے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ کی مدد ہمارے شامل حال نہ ہو تو نہ ہم خود اپنے اندر نیکی قائم کر سکتے ہیں نہ دوسروں کو نیکی کی تلقین کر سکتے ہیں۔نہ ہی یہ سفر خوشخبریاں دلانے والے بن سکتے ہیں۔پس اُس کے فضل کے حصول کے لئے اس کے آگے جھکنا ہی ہماری کوششوں کا بہترین پھل لانے کی ضمانت بن سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس میں کامیابی فرمائے اور قبول فرمائے۔اللہ تعالیٰ نے سفر شروع کرنے سے پہلے قرآن کریم میں بعض دعائیں بھی سکھائی ہیں جو نہ صرف آرام دہ سفر کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے انعامات بھی بڑھاتی ہیں اور آنحضرت ﷺ ہر سفر شروع کرنے سے پہلے دعائیں کیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لِتَسْتَوْا عَلَى ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبُحْنَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ۔وَإِنَّا إِلَى رَبَّنَا لَمُنْقَلِبُونَ (الزخرف: 14-15) سواریوں کا ذکر چل رہا ہے۔پھر فرمایا تا کہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر بیٹھ سکو، پھر جب تم ان پر اچھی طرح قرار پکڑ لو تو اپنے رب کی نعمت کا تذکرہ کرو اور کہو پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے لئے مسخر کیا اور ہم اسے زیر نگیں کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور یقیناً ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔