خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 157 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 157

خطبات مسرور جلد ششم 157 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 اپریل 2008 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ” جب وہ مداومت کرے گا تو خدا تعالیٰ اسے کچی توبہ کی توفیق عطا کرے گا۔یہاں تک کہ وہ سیئات اس سے قطعا زائل ہو کر اخلاق حسنہ اور افعال حمیدہ اس کی جگہ لے لیں گئے۔اور مداومت کس طرح کرنی ہے، اس کے بارے میں آپ نے یہ نسخہ فرمایا کہ ایک پکا ارادہ کرے کہ برائیوں کے قریب بھی نہ پھٹکوں گا تب جو برائیاں ہیں ان کی جگہ اعلیٰ اخلاق لے لیں گے اور ایسے فعل اور عمل سرزد ہوں گے جو قابل تعریف ہوں گے۔پس یہ ہے بچی تو بہ جوز اد راہ مہیا کرتی رہے گی اور پھر انسان مکمل طور پر خدا کی رضا کے حصول کے لئے کوشش کرنے والا ہوگا۔خدا تعالیٰ کی طرف اس کی مدد کے لئے نظر ہوگی اور جب خدا تعالیٰ کی طرف نظر ہوگی تو اس آیت میں بیان کردہ دوسری اہم خصوصیت جو ایک مومن کی ہے اس کی طرف توجہ ہوگی۔یعنی عبادت، مکمل طور پر اس کے آگے جھک جانا اور اپنے ہر عمل کو خدا کی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا۔اور پھر جب یہ حالت ہوگی تو تیسری حالت مومن کی حامدون کی ہے یعنی حمد کرنے والے۔جیسے بھی حالات ہوں ، اچھے یا برے، سفر میں ہو یا حضر میں ہو، اللہ تعالیٰ کی حمد اس کی زبان پر ہوگی۔اور پھر ایک مومن کو یہ خوشخبری دی کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں صبر کرو تو تمہارے دین و دنیا سنور جائیں گے۔تم خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہو گے۔جو سفر بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور نیکیاں پھیلانے کی غرض سے کیا جائے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعامات کے حصول کا ذریعہ بنتا ہے۔اور پھر پانچویں بات یہ بیان فرمائی کہ اُن مومنین کو خوشخبری ہے جو رکوع کرنے والے ہیں۔ہم نماز پڑھتے ہیں ہر رکعت میں رکوع کرتے ہیں لیکن حقیقی رکوع وہ ہے جس میں جسم بھی اور روح بھی اللہ تعالیٰ کے آگے جھک جائے۔جسم کا ہر ذرہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرے۔اللہ تعالیٰ نے خوشخبری دی ہے کہ جب اس سوچ کے ساتھ رکوع ہو گا تو یہ حالت یقیناً میری رضا کو حاصل کرنے کا ذریعہ بنے گی۔پھر سجدہ کرنے والوں کو خوشخبری ہے۔سجدہ انسان نماز میں کرتا ہے۔یہ انتہائی عاجزی کی حالت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ سجدے حقیقی سجدے ہونے چاہئیں۔یہ نہ ہو کہ جس طرح مرغی دانہ کھاتے ہوئے بار باراپنی چونچ زمین پر مارتی ہے ایسے سجدے ہوں بلکہ عاجزی سے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤ۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سجدے کی حالت میں انسان خدا تعالیٰ کے انتہائی قریب ہوتا ہے اس لئے کہ اب اس نے اپنے نفس کو ختم کر کے اللہ تعالیٰ کے حضور ڈال دیا۔پھر اللہ تعالیٰ بھی اسے اپنی نفس کشی کا بہترین بدلہ دیتا ہے۔اب یہ مقام حاصل کرنے کے بعد بندے کا یہ بھی کام ہے کہ ان نیکیوں سے جو مقام اسے حاصل ہوا ہے اسے اپنے تک ہی محدود نہ رکھے بلکہ ان نیکیوں کو پھیلائے۔دوسروں کو بھی اس مقام کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کرے۔برائیوں کے خلاف جہاد کرے۔اپنی برائیاں صاف کرنے کے بعد دنیا ک بھی بتائے کہ کون کون سی باتیں اللہ تعالیٰ کے