خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 159
خطبات مسرور جلد ششم 159 خطبہ جمعہ فرمود ه 11 اپریل 2008 آج کل کے زمانے میں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا، اپنے وعدے کے مطابق ایسی سواریاں بھی مہیا فرما دیں جو آسانی سے اور کم وقت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں۔اگر انسان اس سوچ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرے، اس کی تسبیح کرے کہ میں حقیقی رنگ میں رکوع کرنے والا اور سجدہ کرنے والا ہو جاؤں اور ان میں شامل ہو جاؤں اور ان میں شامل ہو کر اللہ تعالیٰ کے پیغام کو دنیا میں پہنچانے والا بن جاؤں تو ہر سفر اللہ تعالیٰ کی برکات کو سمیٹنے والا سفر ہو گا۔میرے لئے دعا کریں جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ میرا ہر سفر اس جذبے اور روح کے ساتھ ہو۔جب تمام جماعت کی دعاؤں کا دھارا ایک طرف چل رہا ہوگا تو اللہ تعالیٰ کے فضل پھر کئی گنا بڑھ جاتے ہیں اور پھر بڑھ کر ظاہر ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں دعاؤں کی توفیق بھی دے اور انہیں قبول بھی فرمائے اور ہم ہر قدم پر اس کے فضلوں کے نظارے پہلے سے بڑھ کر دیکھیں۔اللہ تعالیٰ ہر قدم پر ہماری کمزوریوں کو دور فرمائے ، پردہ پوشی فرمائے۔ہماری کوئی غلطی ، کوئی کمزوری اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو ہم سے دور لے جانے والی نہ ہو۔اس وقت میں سفر سے متعلق چند احادیث بھی بیان کروں گا جن میں آنحضرت ﷺ نے نصائح بھی فرمائی ہیں، رہنمائی بھی فرمائی ہے، سفر کرنے والوں کو دعائیں بھی دی ہیں تاکہ یہ سفر اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بن جائیں۔آنحضرت یہ سفر کرنے سے پہلے سفر کرنے والوں کو کس طرح دعا دے کر رخصت فرمایا کرتے تھے،اس بارے میں روایت میں آتا ہے، حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا اے اللہ کے نبی ! میں سفر کا ارادہ رکھتا ہوں۔آپ نے اس سے پوچھا کب اس نے کہا کل انشاء اللہ۔راوی کہتے ہیں کہ آپ اس کے پاس آئے اور اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے فرمایا فِی حِفْظِ اللهِ وَ فِي كَنَفِهِ زَوَّدَكَ اللَّهُ التَّقْوَى وَغَفَرَ لَكَ ذَنْبَكَ وَوَجَّهَكَ لِلْخَيْرِ أَيْنَ مَا تَوَفَّيْتَ وَأَيْنَ مَا تَوَجَّهْتَ تو اللہ کی حفاظت میں اور اس کے پہلو میں رہے اللہ تعالیٰ تقوی کو تیر از ادراہ بنائے اور تیرے لئے تیرے گناہ بخشے اور خیر کی طرف ہی تجھے پھیرے جہاں کا بھی تو ارادہ کرے یا جہاں بھی تو رخ کرے۔سفر کرنے سے پہلے آپ کا اپنا عمل کیا تھا۔اس بارے میں بعض روایات پیش کرتا ہوں۔سفروں میں کامیابی کے لئے اور شکر گزاری کے لئے یہی اسوہ ہے جو ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے کا ذریعہ بنے گا۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ بی کریم ﷺ جب کسی مقام پر پڑاؤ کرتے تو وہاں سے اُس وقت تک کوچ نہ فرماتے جب تک دو رکعت نماز نہ ادا فرما لیتے۔جب کسی مقام کو چھوڑتے تو دورکعت نماز ادا کرتے۔