خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 152 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 152

خطبات مسرور جلد ششم 152 خطبہ جمعہ فرمودہ 4 اپریل 2008 پس یہ بہت سخت تنبیہ ہے کہ نہ صرف بدخلقی کر کے اپنے بھائیوں کا دل نہ دکھایا جائے بلکہ ایسا انسان اللہ تعالیٰ کے غضب کا بھی مورد بن جاتا ہے۔پھر آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ آیت بیان فرمائی کہ جن باتوں کا تمہیں علم نہیں ان کے پیچھے نہ چل پڑو کیونکہ جب حساب کتاب ہوگا تو انسان کے اعضاء اس دن گواہی دیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ ”جس بات کا علم نہیں ہے خواہ نخواہ اس کی پیروی مت کرو کیونکہ کان ، آنکھ ، دل اور ہر ایک عضو سے پوچھا جاوے گا۔بہت سی بدیاں صرف بدظنی سے ہی پیدا ہو جاتی ہیں۔ایک بات کسی کے متعلق سنی اور جھٹ یقین کر لیا، یہ بہت بری بات ہے۔جس بات کا قطعی علم اور یقین نہ ہواس کو دل میں جگہ مت دو۔یہ اصل بدظنی کو دور کرنے کے لئے ہے۔الحکم جلد 10 نمبر 22 مورخہ 24 جون 1906 صفحہ 3) پھر ایک جگہ آپ نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یا درکھو جو شخص سختی کرتا اور غضب میں آ جاتا ہے اس کی زبان سے معارف اور حکمت کی باتیں ہرگز نہیں نکل سکتیں۔وہ دل حکمت کی باتوں سے محروم کیا جاتا ہے جو اپنے مقابل کے سامنے جلدی طیش میں آکر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔گندہ دہن اور بے لگام کے ہونٹ لطائف کے چشمے سے بے نصیب اور محروم کئے جاتے ہیں۔غضب اور حکمت دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔جو مغلوب الغضب ہوتا ہے اس کی عقل موٹی اور فہم کند ہوتا ہے۔اس کو کبھی کسی میدان میں غلبہ اور نصرت نہیں دئے جاتے۔غضب نصف جنون ہے اور جب یہ زیادہ بھڑکتا ہے تو پورا جنون ہوسکتا ہے۔ہماری جماعت کو چاہئے کہ گل نا کر دنی افعال سے دور رہا کریں۔وہ شاخ جو اپنے تنے اور درخت سے سچا تعلق نہیں رکھتی وہ بے پھل رہ جاتی ہے۔سود یکھوا گر تم لوگ ہمارے اصل مقصد کو نہ سمجھو گے اور شرائط پر کار بند نہ ہو گے تو ان وعدوں کے وارث تم کیسے بن سکتے ہو جو خدا تعالیٰ نے ہمیں دیئے ہیں“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 104 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس یہ توقعات ہیں ایک احمدی سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اور یہی چیزیں ہیں جو ایک احمدی کو خدا تعالیٰ کے رنگ میں رنگین کرنے کے کام آئیں گی اور ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعثت کے مقصد کو پورا کرنے والے بنیں گے۔پھر کشتی نوح میں نصیحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: کسی پر کبر نہ کر وگو اپناما تحت ہو اور کسی کو گالی مت دو گوہ گالی دیتا ہو۔غریب او حلیم اور نیک نیت اور مخلوق کے ہمدرد بن جاؤ تا قبول کئے جاؤ۔بہت ہیں جو حلم ظاہر کرتے ہیں مگر وہ اندر سے بھیڑیے ہیں۔بہت سے ہیں جو