خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 153
153 خطبہ جمعہ فرمودہ 4 اپریل 2008 خطبات مسرور جلد ششم اوپر سے صاف ہیں مگر اندر سے سانپ ہیں۔سو تم اس کی جناب میں قبول نہیں ہو سکتے جب تک ظاہر و باطن ایک نہ ہو۔بڑے ہو کر چھوٹوں پر رحم کرو، نہ ان کی تحقیر۔اور عالم ہو کر نا دانوں کو نصیحت کرو، نہ خود نمائی سے ان کی تذلیل۔اور امیر ہوکر غریبوں کی خدمت کرو، نہ خود پسندی سے ان پر تکبر۔ہلاکت کی راہوں سے ڈرو۔خدا سے ڈرتے رہو اور تقوی اختیار کرو۔پھر آپ فرماتے ہیں : (کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 11-12) خدا تعالیٰ کی ستاری ایسی ہے کہ وہ انسان کے گناہوں اور خطاؤں کو دیکھتا ہے لیکن اپنی اس صفت کے باعث اس کی غلط کاریوں کو اُس وقت تک جب تک کہ وہ اعتدال کی حد سے نہ گزر جاوے ڈھانپتا ہے۔لیکن انسان کسی دوسرے کی غلطی دیکھتا بھی نہیں اور شور مچاتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ انسان کم حوصلہ ہے اور خدا تعالیٰ کی ذات حلیم و کریم ہے۔ظالم انسان اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھتا ہے اور کبھی کبھی خدا تعالیٰ کے حکم پر پوری اطلاع نہ رکھنے کے باعث بے باک ہو جاتا ہے۔اس وقت ڈو انتقام کی صفت کام آتی ہے اور پھر اسے پکڑ لیتی ہے۔ہندولوگ کہا کرتے ہیں کہ پر میشر اور ات میں ویر ہے یعنی خدا حد سے بڑھی ہوئی بات کو عزیز نہیں رکھتا۔بایں ہمہ بھی وہ ایسا رحیم کریم ہے کہ ایسی حالت میں بھی اگر انسان نہایت خشوع اور خضوع کے ساتھ آستانہ الہی پر جا گرے تو وہ رحم کے ساتھ اس پر نظر کرتا ہے۔غرض یہ ہے کہ جیسے اللہ تعالی ہماری خطاؤں پر معا نظر نہیں کرتا اور اپنی ستاری کے طفیل رسوا نہیں کرتا تو ہم کو بھی چاہئے کہ ہر ایسی بات پر جوکسی دوسرے کی رسوائی یا ذلت پر مبنی ہوفی الفور منہ نہ کھولیں“۔( ملفوظات جلد اول - صفحہ 198۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) یہ چند حوالے جو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیش کئے ہیں جن میں آپ نے رفق اور حلم کے خلق کی طرف ہمیں توجہ دلائی ہے تا کہ ہم اس کے معنوں کو وسیع کر کے دیکھیں۔اس کے معنوں کو وسیع تر کر کے سمجھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں۔یہ باتیں ایک احمدی کو اپنی اصلاح کے لئے جگالی کرتے رہنے کے لئے ضروری ہیں تا کہ یہ احساس اجا گر رہے کہ صرف احمدی ہونا اور بیعت کر لینا یا کسی صحابی کی اولا دہونا ہی کافی نہیں ہے بلکہ عہد بیعت کا حق تب ادا ہو گا جب ہم اپنی حالتوں کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں گے۔آج جب اس سال میں خلافت احمدیہ کے سو سال پورے ہورہے ہیں۔مختلف ممالک میں اس حوالے سے فنکشن بھی شروع ہیں۔ہمیں یہ یادرکھنا چاہئے کہ صرف فنکشن کرنا اور اس غرض کے لئے بہترین انتظامات کرنا ہی ہمارا مقصود نہیں ہے اور نہ کبھی کسی احمدی کو یہ مقصود بنانا چاہئے۔بلکہ دعائیں اور نیک اعمال ہی ہیں جو ایک مومن کو اس انعام سے فیض یاب کرتے رہیں گے اور یہی اللہ تعالیٰ نے شرط لگائی ہے۔وہی اس کی برکات سے فیض پائے گا جو اللہ