خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 151 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 151

خطبات مسرور جلد ششم 151 خطبہ جمعہ فرمودہ 4 اپریل 2008 استعمال کرتا ہے۔اور اس خُلق یعنی رفیق کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی تعلیم کیا ہے اس بارے میں آپ نے قرآن کریم کی آیات کے کچھ حصے پیش فرمائے۔پہلی بات یہ کہ اس خُلق کو پیدا کرنے کے لئے ، رفق کے حسن کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرة:84)۔یہ بات ہے اس پر عمل کرنا چاہئے۔یہ ہے اسلام کے اعلیٰ خلق کا معیار کہ لوگوں کو نیک باتیں کہو۔پیار سے ، ملاطفت سے پیش آؤ۔لوگوں کو نیک باتیں کہنے کے لئے پہلے اپنے اندر بھی تو وہ نیکیاں پیدا کرنی ہوں گی ، وہ خُلق پیدا کرنے ہوں گے تبھی تو اثر ہوگا۔دوہرے معیار تو نیک نتیجے پیدا نہیں کرتے۔پھر تعلیم دی دوسروں کے جذبات کا خیال رکھنے کی اور اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ خود پسندی میں مبتلا نہ ہو جاؤ۔عین ممکن ہے کہ جس کو تم اپنے سے کم تر سمجھ رہے ہو وہ تمہارے سے بہتر ہوں۔جب یہ احساس ہوگا تو پھر اپنے اندر بھی بہتر تبد یلیاں پیدا کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوگی۔پھر فرمایا کہ یہ بات بھی کسی کے اعلیٰ خلق سے بعید ہے کہ وہ کسی کو ایسے ناموں سے پکارے جو دوسرے کو بُرے لگیں۔رفق کرنے والے تو وہ ہوتے ہیں جو دوسروں کے ہمدردہوں، ان کے کام آنے والے ہوں۔یہ حرکتیں تو ان کے اندر دوریاں پیدا کریں گی اور نفرتوں کی دیوار میں کھڑی کریں گی۔اسی طرح بدظنیاں ہیں یہ ایسی برائیاں ہیں جو تعلقات میں دراڑیں ڈالتی ہیں، دوستیوں کوختم کرتی ہیں ، بغض اور کینے بڑھتے ہیں۔پھر فرمایا کہ بلاوجہ کا تجسس بھی جو کسی کے عیب تلاش کرنے کے لئے کیا جائے خود اپنے اخلاق کو بھی تباہ کرتا ہے اور معاشرے کا امن بھی برباد کرتا ہے اور پھر یہ بھی ایسے شخص سے بعید ہے جور فیق ہونے کا دعویٰ کرے اور اپنے دوستوں کی غیبت کرے۔ان کے بارے میں ایسی باتیں کہے جو اگر اس کے اپنے بارے میں کسی مجلس میں کی جائیں تو اُسے بُری لگیں۔ایک طرف تو مومن کا یہ دعویٰ ہو کہ ہم اللہ تعالیٰ کی صفات اپنانے والے ہیں دوسری طرف رفق جس کا مطلب دوسرے سے اعلیٰ سلوک کرنا ہے اس کی بجائے برائیاں بیان کی جائیں اور وہ بھی ایسی مجلسوں میں جن کا مقصد اصلاح نہ ہو بلکہ ہنسی ٹھٹھا ہو۔پس اس سے بچنے کی نہ صرف کوشش کرنی چاہئے بلکہ ایسی جگہوں سے دور بھا گنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : جو ایک دوسرے کو برے ناموں سے یاد کرتے ہیں اور اپنے ہی لوگوں پر عیب لگاتے ہیں اور دوستوں کی طرح پردہ پوشی سے کام نہیں لیتے بلکہ تمسخر کرتے ہیں اور غیبت کرتے ہیں اور بدظنی سے کام لیتے ہیں اور اٹھتے بیٹھتے لوگوں کے عیوب کی تلاش میں لگے رہتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ ان امور کے مرتکب کو ایمان کے بعد اطاعت سے نکل جانے والا قرار دیتا ہے اور اس پر اُسی طرح اپنے غضب کا اظہار کرتا ہے جیسے کہ سرکشی کرنے والوں پر۔