خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 139
139 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مارچ 2008 ہوا ہے۔فرماتا ہے وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُوْلَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِّنْ سَبِيْلِ (الشوری :42 ) اور جو کوئی اپنے او پر ظلم کے بعد بدلہ لیتا ہے تو یہی وہ لوگ ہیں جن پر کوئی الزام نہیں۔فرمایا انمَا السَّبِيْلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْارْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيم (الشوری: 43) الزام تو صرف ان پر ہے جولوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی سے کام لیتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے دردناک عذاب مقدر ہے۔فرماتا ہے۔وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الا مُورِ (الشوری: 44 ) اور جو صبر کرے اور بخش دے تو یقیناً یہ اولوالعزم باتوں میں سے ہے۔پہلی بات تو یہاں یہ واضح ہو کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ بدلہ لینے کی اجازت ہے تو قانون اپنے ہاتھ میں لے کر جس طرح چاہو بدلے لے لو۔اگر مسلمان بھی یہ سمجھیں تو وہ جن کو قرآن کریم کا علم ہے اس کی صحیح حقیقت سمجھتے ہیں لیکن دشمن چونکہ اعتراض کرنے والا ہوتا ہے وہ ان باتوں میں بھی اعتراض نکال لیتا ہے۔بلکہ یا درکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ اُولُو الا مر کے پاس جاؤ۔اللہ اور رسول کے بعد اُولُو الا ئمر کا حکم مانو۔اس لئے فی زمانہ جو بدلہ لینے کی بات ہو رہی ہے تو اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ قانون کے ذریعہ سے جو بھی بدلہ لینا ہے وہ لو۔قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے اس سے تو ظلم کے اور دروازے کھلیں گے۔پس ظلم کا بدلہ اور دفاع قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے لینے کی اجازت ہے اور اسلام کی تعلیم نہ ہی تصوراتی ہے، نہ ایسی ہے جس پر عمل نہ کیا جاسکے۔ہاں اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔دشمن بجائے اس کے سمجھنے کے اور اور رنگ میں اس کی وضاحتیں کرتا ہے۔پس اسلام ایک عملی شکل پیش کرتا ہے کہ ہر ایک شخص میں معاف کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا ، اس لئے تم اپنے پر ظلم ہونے پر اپنا دفاع کر سکتے ہو لیکن قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر پکڑتا ہے تو انہیں پکڑتا ہے جو بغیر وجہ کے ظلم کرتے ہیں اور ظلم کرتے ہوئے دوسروں کے حقوق غصب کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس میں ہر قسم کے اخلاقی ، جذباتی ، معاشی ، معاشرتی ، مذہبی وغیرہ حقوق شامل ہیں۔اور یہ لوگ جو حقوق غصب کرنے والے ہیں یہ معاشرے کا امن برباد کرنے والے ہیں اور دوسروں کو بلاوجہ نقصان پہنچانے والے ہیں بلکہ (ان کا ) یہ ( عمل ) سرکشی ہے۔اللہ تعالیٰ کے خلاف بغاوت ہے۔ایسے لوگ اگر اپنے ملک کے قانون کی وجہ سے ان ظالموں کے کرنے کے باوجود بچ جاتے ہیں جیسے یہاں آجکل یورپ میں آزادی خیال کے نام پر دوسروں کے جذبات اور مذہبی خیالات یا مذہبی تعلیم سے کھیلنے کی اجازت ہے۔لیکن ان سب کو یا درکھنا چاہئے کہ سب طاقتوں کا مالک ایک خدا ہے جس کے حضور ہر ایک نے حاضر ہونا ہے۔اس نے سرکشوں کے لئے اگلے جہان میں دردناک عذاب مقدر کر رکھا ہے۔