خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 140 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 140

140 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مارچ 2008 خطبات مسرور جلد ششم پھر دیکھیں قرآنی احکامات میں برداشت کی انتہا۔جبکہ الزام لگانے والے الزام یہ لگاتے ہیں کہ اس میں صبر کی تعلیم نہیں ہے۔برداشت کی تعلیم نہیں ہے۔ان آیات میں جو میں نے پڑھی ہیں، آخری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بے شک تم بدلہ لینے اور اپنا نقصان پورا کرنے کا حق رکھتے ہو لیکن اعلیٰ ترین اخلاق یہ ہیں کہ تم صبر کرو اور دوسرے کو معاف کرو۔ان کی بہتری کے لئے کوشش کرو اگر معاف کرنے سے بہتری پیدا ہو سکتی ہے۔اور اس کی اعلیٰ ترین مثال آنحضرت ﷺ کی ذات میں ہمیں نظر آتی ہے اور تاریخ نے اسے محفوظ کیا ہے۔مستشرقین بھی اسے تسلیم کرتے ہیں۔جب ایک یہودیہ نے آپ کو زہر دینے کی کوشش کی تو آپ نے اس کو معاف کیا اور کئی مواقع آئے جب آپ اپنے پر ظلم کرنے والوں کو معاف کرتے چلے گئے۔جیسا کہ میں نے جوا بھی اقتباس پڑھا ہے اس میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔پھر اس کی انتہاء فتح مکہ کے وقت ہوئی۔جب اپنے پیارے ساتھیوں پر ظلم کرنے والوں کو، اپنے پر ظلم کرنے والوں کو تمام اختیارات اور طاقت آنے کے باوجود لا تـــريـــب عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کہ کر معاف کر دیا۔اب بھی دشمن کہتے ہیں کہ اسلام کے احکامات میں تختی ہے اور کوئی انسانی ہمدردی نہیں اور آنحضرت ﷺ نعوذ باللہ رفیق اور حلم کے نام کی کوئی چیز نہیں جانتے تھے۔آپ تو اپنی جان کو اس بات سے ہی ہلاک کر رہے تھے کہ یہ لوگ جو شرک کرنے والے ہیں، جو ایک خدا کی عبادت نہ کرنے والے ہیں، اپنی ان حرکتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے نیچے نہ آ جائیں۔اپنے ان ظلموں کی وجہ سے جو یہ لوگ آپ پر اور آپ کے ماننے والوں پر کر رہے تھے کہیں اللہ تعالیٰ کا درد ناک عذاب ان کو پکڑ نہ لے۔آپ کی اس صفت کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء:4 ) کہ کیا تو اپنی جان کو اس لئے ہلاک کر دے گا کہ وہ مومن نہیں ہوتے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت یہ کفار کے ایمان لانے کے لئے اس قدرجانکاہی اور سوز و گداز سے دعا کرتے تھے کہ اندیشہ تھا کہ آنحضرت ﷺ اس غم سے خود ہلاک نہ ہو جاویں۔اس لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے لئے اس قدر غم نہ کر اور اس قدرا اپنے دل کو دردوں کا نشانہ مت بنا۔کیونکہ یہ لوگ ایمان لانے سے لاپر واہ ہیں اور ان کے اغراض اور مقاصد اور ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ اشارہ فرمایا ہے کہ اے نبی (علیہ السلام ) جس قدر تو عقد ہمت اور کامل توجہ اور سوز و گداز اور اپنی روح کو مشقت میں ڈالنے سے ان لوگوں کی ہدایت کے لئے دعا کرتا ہے تیری دعاؤں کے پر تا ثیر ہونے میں کچھ کمی نہیں ہے۔لیکن شرط قبولیت دعا یہ ہے کہ جس کے حق میں دعا کی جاتی ہے سخت متعصب اور لا پر واہ اور گندی فطرت کا انسان نہ ہو، ورنہ دعا قبول نہیں ہوگی۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد نمبر 21 صفحہ 226)