خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 138 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 138

138 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مارچ 2008 خطبات مسرور جلد ششم سزا دینے کا۔پس مجرم کے حق میں اور نیز عامہ خلائق کے حق میں جو کچھ فی الواقعہ بہتر ہو وہی صورت اختیار کی جائے۔بعض وقت ایک مجرم گناہ بخشنے سے تو بہ کرتا ہے اور بعض وقت ایک مجرم گناہ بخشنے سے اور بھی دلیر ہو جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اندھوں کی طرح گناہ بخشنے کی عادت مت ڈالو بلکہ غور سے دیکھ لیا کرو کہ حقیقی نیکی کسی بات میں ہے۔آیا بخشنے میں یا سزا دینے میں۔پس جو مرکل اور موقع کے مناسب ہو وہی کرو۔افراد انسانی کے دیکھنے سے صاف ظاہر ہے کہ جیسے بعض لوگ کینہ کشی پر بہت حریص ہوتے ہیں یہاں تک کہ دادوں، پڑدادوں کے کینوں کو یاد رکھتے ہیں۔ایسا ہی بعض لوگ عفو اور درگزر کی عادت کو انتہا تک پہنچنے دیتے ہیں اور بسا اوقات اس عادت کے افراد سے دیو سی تک نوبت پہنچ جاتی ہے اور ایسے قابل شرم حلم اور عفو اور درگزران سے صادر ہوتے ہیں جو سرا سر حمیت اور غیرت اور عفت کے برخلاف ہوتے ہیں بلکہ نیک چلنی پر داغ لگاتے ہیں۔اور ایسے عفو اور درگز رکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سب لوگ تو بہ توبہ کر اٹھتے ہیں۔انہیں خرابیوں کے لحاظ سے قرآن کریم میں ہر ایک خُلق کے لئے محل اور موقع کی شرط لگادی ہے اور ایسے خلق کو منظور نہیں کیا جو بے محل صادر ہو۔اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 351-352 مطبوعہ لندن) پس یہ ہے اسلامی تعلیم جس پر مخالفین اسلام کو اعتراض ہوتا ہے۔جنگوں میں جنگ کی حالت ہے تو جس وقت تک جنگ کی حالت ہے اس وقت تک کیونکہ دشمن حملہ آور ہے اس لئے اس کا مفتی سے جواب دو۔لیکن جب جنگ ختم ہو جائے تو پھر ظلم نہیں کرنا۔قیدیوں کو رہا کرنا ہے۔پھر اس کے علاوہ اگر معاشرتی مسائل ہیں تو ان کی اصلاح کے لئے بھی یہ دیکھو کہ حتی سے اصلاح ہوتی ہے یا نرمی سے۔اگر کسی مجرم کو معاف کرنے سے، اس سے نرمی سے پیش آنے سے، اس کی ہمدردی کرنے سے یہ یقین ہو کہ اس کی اصلاح ہو جائے گی اور جو جرم اُس نے کیا ہے وہ مجبوری کی حالت میں کیا ہے ، عادی مجرم نہیں ہے تو پھر معاف کرنا بہتر ہوتا ہے کہ اس سے اصلاح ہوتی ہے۔لیکن اگر عادی مجرم ہو تو اس کو اگر معاف کرتے چلے جائیں تو پھر معاشرے کا امن برباد ہوتا ہے۔اللہ تعالی جو اپنے بندوں کا بہترین ساتھی ہے، اپنے ان بندوں کا جو عباد الرحمن ہیں، جو خدا تعالیٰ کی خاطر ہر قسم کی قربانیاں دینے کے لئے تیار ہیں، جو اس کی عبادت میں طاق ہیں، ان کے لئے پھر اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کرتا ہے جو دوسروں کے شر اور نقصان سے ان کو بچائیں۔ان کو مشکلات سے نکالتا ہے جیسا کہ بیماری کی تکلیف سے نکالنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو الہاماً بھی اس صفت کا اظہار کر دیا تھا۔پس اللہ تعالیٰ نے اس بنیادی چیز کی طرف توجہ دلائی ہے کہ تمہارا مقصد اصلاح ہو۔اور اس مقصد سے اگر باہر نکلتے ہو تو پھر مقصد نیک نہیں ہے بلکہ ظلم بن جاتا ہے اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔اللہ کے بندے تو ظلم کا خاتمہ کرنے والے ہوتے ہیں۔سورۃ شوری کی جو آیت میں نے پڑھی ہے، اس کی اگلی آیات میں مزید کھول کر اسلام کی خوبصورت تعلیم کا ذکر