خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 119
خطبات مسرور جلد ششم 119 خطبه جمعه فرموده 21 مارچ 2008 آپ نے فرمایا نہیں سختی نہیں کرنی۔آنحضرت ﷺ کے حسن خلق اور صفت حلیم کا اظہار ایک اور روایت میں اس طرح ملتا ہے۔حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔( یہ لمبی حدیث ہے، خلاصہ بیان کرنے کی کوشش کروں گا ) کہ زید بن سعنہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں تشریف لائے۔وہ یہودی عالم کہتے ہیں کہ جب میں نے آنحضرت ﷺ کے چہرے کو دیکھا تو اس میں نبوت کی تمام علامات مجھے نظر آئیں۔سوائے دو باتوں کے جن کا مجھے پتہ نہیں چلتا تھا۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس نبی کا حکم اس کے غصے پر غالب ہوگا اور دوسری بات یہ کہ جتنا زیادہ اس کو غصہ دلایا جائے اور اس کی گستاخی کی جائے اتنا ہی زیادہ وہ حلم اور بردباری دکھائے گا۔تو کہتے ہیں کہ میں اس جستجو میں رہا کہ مجھے کوئی موقع ملے تو میں ان دو علامتوں کی بھی پہچان کروں کہ آیا آپ میں ہیں کہ نہیں اور آپ حقیقت میں وہی نبی ہیں جن کے آنے کی پیشگوئی تھی؟ وہ کہتے ہیں ایک دن ایک سوار آیا جو بدوی تھا، دیہاتی تھا۔اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ بنو فلاں کے گاؤں بھری کے لوگ مسلمان ہو گئے ہیں اور میں نے ان سے کہا تھا کہ اگر وہ مسلمان ہو جا ئیں تو ان کو وافر رزق ملے گا۔اب حالات یہ ہیں کہ بارش کی کمی کی وجہ سے قحط کا شکار ہو گئے ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ پھر لالچ میں آ کر کسی اور سے یہ رزق لے کر یا مدد لے کر اسلام سے باہر نہ نکل جائیں۔کیونکہ لگتا تھا کہ وہ کسی لالچ میں ہی اسلام لائے ہیں۔تو آپ مہربانی کریں اور مناسب سمجھیں تو ان کی کچھ مدد اور دلداری فرمائیں۔اس نے جب یہ آنحضرت ﷺ سے عرض کیا، اُس وقت آنحضور کے ہمراہ حضرت علی تھے۔حضرت علیؓ سے آپ نے پوچھا تو انہوں نے کہا اس وقت ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو مدد کے طور پر بھیجی جا سکے۔تو زید بن سعنہ نے کہا کہ اے محمد ہے کہ اگر بنو فلاں کے باغ کی کھجوریں ایک طے شدہ پروگرام کے تحت مجھے بیچ سکتے ہوں تو میں ان کی مدد کر سکتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ اے یہودی! طے شدہ مقدار اور مدت کی شرط پر کھجوریں تو بیچ سکتا ہوں لیکن یہ شرط نہیں مان سکتا کہ یہ کھجور میں فلاں کے باغ کی ہی ہوں۔خیر انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔معاہدہ ہو گیا۔انہوں نے اپنی تھیلی کھولی اور سونے کے 80 مثقال ان کھجوروں کی قیمت کے طور پر پیشگی دے دیئے کہ فلاں وقت میں یہ ادائیگی ہوگی۔آپ نے وہ رقم اس کو دی کہ جاؤ لوگوں میں برابر کی تقسیم کر دو۔یہ زید بن سعنہ کہتے ہیں کہ اس قرض کی واپسی میں یا جو سودا ہوا تھا جس کے بدلے کھجوریں لینی تھیں، ان کھجوروں کی ادائیگی میں کچھ دن باقی تھے تو میں آنحضرت کے پاس گیا اور آپ کا گریبان پکڑ لیا اور چادر کھینچی اور بڑے غصے کی حالت میں کہا کہ اے محمد ! کیا میرا حق ادا نہیں کرو گے؟ پھر کہتے ہیں میں نے کہا خدا کی قسم ! بنو عبدالمطلب کی اس عادت کو میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ قرض ادا کرنے میں بڑے بڑے ہیں اور تمہاری ٹال مٹول کی عادت کا بھی مجھے علم ہے۔اس وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو پاس ہی بیٹھے تھے اُن سے رہا نہ گیا