خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 118
خطبات مسرور جلد ششم 118 (12) خطبہ جمعہ فرمودہ 21 مارچ 2008 فرمودہ مورخہ 21 /مارچ 2008 ء بمطابق 21 رامان 1387 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: گزشتہ خطبہ میں یہ ذکر ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات حلیم ہے اور باوجود بعض لوگوں اور قوموں کے حد سے زیادہ بڑھے ہوئے ہونے ، زیادتیوں میں بڑھے ہوئے ہونے اور نا فرمانیوں میں بڑھے ہوئے ہونے کے اپنی اس صفت کے تحت اس دنیا میں ایسے لوگوں اور قوموں سے عموما صرف نظر کرتے ہوئے انہیں فوری نہیں پکڑتا۔اگر وہ اس طرح رحم نہ کرے اور نرمی کا سلوک نہ کرے اور فوری سزا اور پکڑ اور انتقام کی صفات حرکت میں آجائیں تو دنیا میں کوئی فرد بشر باقی نہ بچے بلکہ پھر کوئی جاندار بھی باقی نہ بچتا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے پر ایمان لانے والوں کو بھی اپنی صفات کے اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ایک مومن کی یہی نشانی بتائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں رنگین ہو۔انبیاء کو اللہ تعالیٰ اپنی صفات سے وافر حصہ عطا فرماتا ہے تاکہ دنیا کی اصلاح کر سکیں ، ان کے سامنے نمونہ بن سکیں اور آنحضرت مہ کو سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی صفات کا فہم و ادراک عطا ہوا اور آپ سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی صفات کے پر تو بنے۔لیکن وہ لوگ جو اسلام اور آنحضرت ﷺ سے بغض رکھتے ہیں، کینہ رکھتے ہیں اُن کو اُن کے ان بغضوں اور کینوں نے اندھا کر دیا ہے۔ان کو آپ ﷺ کی ذات میں اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا اظہار نظر ہی نہیں آتا۔آنحضرت ﷺ نے امت کو کیا نصیحتیں کیں اور اس صفت کے حوالے سے آپ کے عمل کیا تھے ( اس ضمن میں ) آج میں صفت حلیم کے حوالے سے بعض احادیث پیش کروں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ایک دفعہ ایک ایلچی حضرت رسول کریم ﷺ کے پاس آیا۔وہ بار بار آپ کی ریش مبارک کی طرف ہاتھ بڑھاتا تھا۔داڑھی کی طرف ہاتھ بڑھاتا تھا ” اور حضرت عمر تلوار کے ساتھ اس کا ہاتھ ہٹاتے تھے۔آخر حضرت عمر کو آنحضرت ﷺ نے روک دیا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی کہ یہ ایسی گستاخی کرتا ہے کہ میرا جی چاہتا ہے اس کو قتل کر دوں مگر آنحضرت ﷺ نے اس کی تمام گستاخی علم کے ساتھ برداشت کی“۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 324 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ )