خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 120
120 خطبه جمعه فرموده 21 مارچ 2008 خطبات مسرور جلد ششم اور بڑے غصے سے انہوں نے اس کو دیکھا اور کہا کہ اے اللہ کے دشمن! اللہ کے رسول ﷺ سے تو ایسا کہتا ہے جو میں سن رہا ہوں۔اس طرح گستاخی سے پیش آتا ہے جس طرح میں دیکھ رہا ہوں۔اُس خدا کی قسم جس نے ان کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ اگر مجھے ان کا ڈرنہ ہوتا تو میں اپنی تلوار سے سے تیرا سر اڑا دیتا۔جبکہ رسول اللہ یہ بڑے اطمینان اور تسلی سے بیٹھے حضرت عمر کی طرف دیکھ رہے تھے۔پھر آپ مسکرائے اور آپ نے فرمایا کہ اے عمر ! اس غصہ کی بجائے تم مجھے بھی کہو کہ حقدار کا حق ادا کرو اور اس کو بھی کہو کہ جو قرض کا تقاضا ہے یا حق کا تقاضا ہے اس کے کوئی اصول اور طریقے ہوتے ہیں ،اسے پیار سے سمجھاؤ۔اور فرمایا کہ جاؤ اس کو لے جاؤ اور جو معاہدہ ہوا تھا اس سے اس کو 20 صاع زیادہ کھجوریں دے دینا۔(صاع ایک پیمانہ ہے )۔کہتے ہیں میں حضرت عمرؓ کے ساتھ گیا اور انہوں نے زائد کھجور میں مجھے دیں۔میں نے پوچھا عمر یہ زائد کس لئے ؟ انہوں نے کہا آنحضرت نے فرمایا تھا کہ جو ختی میں نے کی تھی اس کے بدلے میں تمہیں زائد دوں۔انہوں نے حضرت عمرؓ سے پوچھا کہ تم جانتے ہو کہ میں کون ہوں؟ انہوں نے کہا نہیں، میں تو نہیں جانتا۔زید بن سعنہ نے کہا کہ میں زید بن سعنہ ہوں۔حضرت عمرؓ نے کہا وہی یہودی عالم؟ اس نے جواب دیا ہاں میں وہی ہوں۔اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اتنے بڑے عالم ہو کر رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کا یہ طریق تم نے اختیار کیا ہے؟ اس پر میں نے کہا کہ اس شخص کو دیکھ کر آنحضرت ﷺ کو دیکھ کر ) جتنی بھی نبوت کی علامات تھیں وہ مجھے نظر آ رہی تھیں۔لیکن دو علامات کا مجھے پتہ نہیں چلتا تھا۔ایک یہ کہ کیا اس نبی کا علم اس کے غصہ پر غالب ہے؟ اور دوسرے یہ کہ جتنا زیادہ ان سے تلخی یا جہالت سے پیش آیا جائے اتنا ہی زیادہ وہ حلم اور بردباری سے پیش آئیں گے۔اب مجھے موقع ملا تھا تو میں نے آزمایا اور میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں اللہ کو اپنا رب اور اسلام کو اپنا دین او محمد ﷺ کو رسول مانتا ہوں۔اور اس خوشی میں میرا آدھا مال اُمت مسلمہ کے لئے ہے۔آنحضرت ﷺ کے اس حلم کو دیکھ کر وہ یہودی عالم اسلام لے آئے اور پھر کئی جنگوں میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے ، غزوہ تبوک سے واپس آتے ہوئے راستے میں انہوں نے وفات پائی تھی۔(مستدرك مع التلخيص - کتاب معرفۃ الصحابة باب ذکر اسلام زید بن سعنہ جلد 3 صفحہ 605-604) یہ آنحضرت ﷺ کا خلق اور حلم ہے کہ دشمن یا مخالف سے حسن سلوک اس طرح ہے کہ باوجود اس کے کہ جو معاہدہ ہے اس کے پورے ہونے میں ابھی کچھ دن باقی ہیں لیکن پھر بھی بڑی نرمی سے، بڑے پیار سے ، قرض خواہ کا قرض اس کو واپس کیا اور نہ صرف واپس کیا بلکہ زائد دیا۔یہ کوئی ایک دو واقعات نہیں ہیں بلکہ بے شمار ایسے واقعات ہیں جو روایات میں ہیں اور لاکھوں ایسے واقعات ہوں گے جو ہم تک پہنچے ہی نہیں۔آپ کے علم کا ایک اور روایت میں یوں ذکر آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کا قرض ادا کرنا تھا۔وہ آپ کے ساتھ بڑی سختی سے پیش آیا۔اس پر صحابہ سے مارنے کے