خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 110
خطبات مسرور جلد ششم 110 (11) خطبہ جمعہ فرموده 14 مارچ 2008 فرمودہ مورخہ 14 مارچ 2008ء بمطابق 14 امان 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی ایک صفت حلیم ہے جس کے معنی (اگر وہ خدا تعالیٰ کے لئے استعمال کی جائے تو ) یہ ہیں کہ رحم کرنے والی ہستی ، معاف کرنے والا ، درگزر کرنے والا یعنی نافرمانی کی صورت میں نافرمانوں پر فوری طور پر غضب نازل نہیں کرتا۔نافرمانی اسے بے چین نہیں کرتی۔پھر پردہ پوشی کرنے والا ہے۔گویا اللہ تعالیٰ کی اس صفت میں کئی صفات کے معنی آگئے ہیں۔رحیم بھی ہے۔غفور بھی ہے۔ستار بھی ہے لیکن جب انسان اصرار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود کو توڑنا شروع کر دیتا ہے تو پھر اگر وہ چاہے تو اس کی وہ صفات کام کرنا شروع کر دیتی ہیں جن میں پکڑ اور سزا بھی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مختلف جگہوں پر اس بات کا ذکر فرمایا ہے کہ ہم پکڑ میں جلدی نہیں کرتے۔کیونکہ اگر خدا تعالیٰ پکڑ میں جلدی کرنے لگ جائے تو انسان جو گناہوں کا پتلا ہے، ہر گناہ اور جرم پر اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آکر سزا پانے والا بن جائے۔بلکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ میں بڑے گناہ کرنے والوں کو بھی ڈھیل دیتا ہوں حتی کہ کفار، اور انبیاء کو جولوگ دکھ اور تکلیف دینے والے ہیں ان کو بھی چھوٹ دیتا ہوں۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے: وَلَـرُ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمُ مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَلكِنُ يُؤَخِّرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى فَإِذَا جَاءَ اَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُونَ۔(النحل: 63) اور اگر اللہ انسانوں کا ان کے ظلم کی بنا پر مواخذہ کرتا تو اس زمین پر کوئی جاندار باقی نہ چھوڑتا لیکن وہ انہیں ایک طے شدہ میعاد تک مہلت دیتا ہے۔پس جب ان کی میعادآ پہنچے تو نہ وہ اس سے ایک لمحہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔تو یہ ہے جواب ان لوگوں کو جو خدا کو نہ ماننے والے ہیں، جو انبیاء سے استہزاء کا سلوک کرنے والے ہیں، جن کو دنیا کی چکا چوند نے بالکل اندھا کر دیا ہوا ہے کہ اللہ غلط کام کرنے والوں کو اور اپنے پیاروں کے ساتھ استہزاء کرنے والوں کو ضرور پکڑتا ہے۔اس لئے یہ نہ سمجھو کہ تمہیں اگر کبھی اللہ تعالیٰ نے نہیں پکڑایا ابھی تک اللہ تعالیٰ کی پکڑ نہیں آئی تو نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کے نبی غلط ہیں یا خدا تعالیٰ کا کوئی وجود نہیں ہے۔آج کل جو کارٹون بنانے والے ہیں یا جو آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم سے استہزاء کرنے والے ہیں ان کا