خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 109
خطبات مسرور جلد ششم 109 خطبه جمعه فرموده 7 مارچ 2008 اگر قرآن نہ آتا تو تمام دنیا ایک گندے مضغہ کی طرح تھی۔قرآن وہ کتاب ہے جس کے مقابل پر تمام ہدایتیں پیچ ہیں۔کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 26-27) پس یہ توقعات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک احمدی سے ہیں۔قرآن کریم کے تمام احکامات کی پیروی کی کوشش ہی ہے جو ہمیں نجات کی راہیں دکھانے والی ہے۔اس کے لئے ایک لگن کے ساتھ ، ایک تڑپ کے ساتھ ہم میں سے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے۔اگر ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ تقویٰ کے راستوں کی تلاش ہم نے کرنی ہے اور اسی مقصد کے لئے ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا ہے تو پھر یہ تقویٰ انہی راستوں پر چل کر ہی ملے گا جن پر آنحضرت ﷺ کے صحابہ چلے تھے۔اگر ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ ہم نے زمانے کے امام کو مان کر دنیا میں ایک پاک تبدیلی پیدا کرنی ہے اور ایک انقلاب لانا ہے تو سب سے پہلے ہمیں اپنی حالتوں میں انقلاب لانا ہوگا۔اپنی نسلوں میں انقلاب لانا ہو گا۔اپنے ماحول کو اس روشن تعلیم سے آگاہ کرنا ہوگا۔اس تعلیم سے اور اس پر عمل کرتے ہوئے ان لوگوں کے منہ بند کرنے ہوں گے جو اسلام پر اعتراض کرتے ہیں۔جن کو یہ فکر پڑ گئی ہے کہ اسلام کی طرف کیوں دنیا کی توجہ ہے۔جس کی تحقیق کے لئے دنیا کے مختلف ممالک میں جائزہ کے لئے پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے۔اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ یہ اسلام کی خوبیاں تلاش کرنے کے لئے ریسرچ ہو رہی ہے یا تحقیق ہو رہی ہے کہ خوبیاں کیا ہیں جس کی وجہ سے ہمیں اسلام کا حسن نظر آئے تو یہ غلط نہیں ہے۔یہ تحقیق اس لئے ہے کہ ان طاقتوں اور حکومتوں کو ہوشیار کیا جائے جو اسلام کے خلاف ہیں کہ اس رجحان کو معمولی نہ سمجھو اور جو کارروائی کرنی ہے کر لو۔جو ظاہری اور چھپے ہوئے وار کرنے ہیں کر لو اور اس کے لئے جو بھی حکمت عملی وضع کرنی ہے وہ ابھی کر لو، وقت ہے۔پس ہر احمدی کی آج ذمہ داری ہے کہ اس عظیم صحیفہ الہی کی ، اس قرآن کریم کی تلاوت کا حق ادا کریں۔اپنے آپ کو بھی بچائیں اور دنیا کو بھی بچائیں۔جن لوگوں کی اسلام کی طرف توجہ پیدا ہوئی ہے لیکن احمدی نہیں ہوئے ان میں سے بہت سوں نے آخر حقیقی اسلام اور حق کی تلاش میں احمدیت کی گود میں آنا ہے انشاء اللہ تعالیٰ۔اس کے لئے ہر احمدی کو اپنے آپ کو تیار کرنا چاہئے۔آج جب اسلام دشمن طاقتیں ہر قسم کے ہتھکنڈے اور اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے پر تلی ہوئی ہیں، بیہودگی کا ایک طوفان برپا کیا ہوا ہے تو ہمارا کام پہلے سے بڑھ کر اس الہی کلام کو پڑھنا ہے، اس کو سمجھنا ہے، اس پر غور کرنا ہے، فکر کرنا، تدبر کرنا ہے اور پہلے سے بڑھ کر اس کلام کے اتارنے والے خدا کے آگے جھکنا ہے تاکہ ان برکات کے حامل بنیں جو اس کلام میں پوشیدہ ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹرنیشنل جلد 15 شمارہ نمبر 13۔مورخہ 28 مارچ تا14اپریل 2008ء صفحہ 5 تا8 )