خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 111
111 خطبہ جمعہ فرمودہ 14 مارچ 2008 خطبات مسرور جلد ششم جواب بھی اس آیت میں آ گیا ہے کہ کیوں انہیں کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔یہ کھلی چھٹی نہیں ہے بلکہ یہ ڈھیل اس لئے ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنا ایک قانون بنایا ہوا ہے۔اس کی صفت حلیم ہے جو اُن کو بچارہی ہے۔للہ تعالیٰ کی صفت حلیم کا تقاضا ہے کہ وہ بندوں کی طرح فوری طور پر اشتعال میں نہیں آتا، غصے میں نہیں آتا جب تک کہ اچھی طرح اتمام حجت نہ ہو جائے۔اس لئے یہ نہ سمجھو کہ اس ڈھیل کا ملنا، یا تمہیں فوری سزا نہ ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ تم حق پر ہو۔یا اسلام یا قرآن حقیقت میں اس قابل ہی ہیں کہ ان کو اگر برا بھلا بھی کہ دیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔یا یہ نہ سمجھو کہ تمہیں سزا کا نہ ملنا خدا تعالیٰ کے عدم وجود پر دلالت کرتا ہے۔اگر یہی دلیل ہے کہ فوری پکڑ نہ ہوتو یا وہ دین سچا نہیں ہے یا خدا تعالیٰ کا وجود نہیں ہے تو پھر بہت سی دنیاوی برائیاں ہیں جن میں مجرم فوری طور پر پکڑتے نہیں جاتے۔بعض جرموں کا پتہ لگنے پر حکومتی ادارے ان پر نظر رکھتے ہیں لیکن فوری پکڑتے نہیں۔تو ان جرموں پر اس طرح پکڑے نہ جانے کا یہ مطلب نہیں نکلتا کہ وہ جرائم ، جرائم نہیں رہے۔حکومتیں بھی ایک حد تک ڈھیل دیتی ہیں اور نظر رکھتی ہیں اور پھر قانون حرکت میں آ جاتا ہے۔تو پھر جو حاکم اعلیٰ ہے اور جس نے اپنی ایک صفت حلیم بنائی ہے اس سے کیوں توقع رکھی جاتی ہے کہ فوری پکڑے اور اگر نہ پکڑے گا تو اس کا مطلب ہے کہ یہ دین خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے یا خدا تعالیٰ کا کوئی وجود نہیں ہے۔دنیاوی قانون میں تو پکڑے جانے اور سزا کے بعد اس شخص تک ہی بات محدود رہتی ہے جس کو پکڑا گیا ہو یا سزا دی گئی ہو یا زیادہ سے زیادہ اس کے فوری زیر پر ورش لوگ بیوی بچے ، بہن بھائی، ماں باپ متاثر ہوتے ہیں۔اور اگر کسی کو کسی جرم میں پھانسی پر لٹکا دیا جائے تو نسل چلتی رہتی ہے یا کم از کم انسانیت کی نسل چلتی رہتی ہے، اس خاندان کی نسل چلتی رہتی ہے؟ اس معاشرے میں نسل چلتی رہتی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اگر میں نسل انسانی کے جرموں پر انہیں پکڑنا شروع کردوں اور فوری پکڑنے لگوں تو نسلِ انسانی ہی ختم ہو جائے۔پس اللہ تعالیٰ کی ڈھیل کے قانون کے بغیر تو نسلِ انسانی چل ہی نہیں سکتی۔کیونکہ دنیا گناہوں سے بھری پڑی ہے اگر یہ ہو کہ ہر گناہ پر اس دنیا میں ہی اللہ تعالیٰ عذاب نازل فرما نا شروع کر دے یا جب سے دنیا بنی ہے عذاب نازل کرتارہتا تو اب تک نسل انسانی ختم ہو چکی ہوتی۔یہ ٹھیک ہے کہ نیک لوگ بھی دنیا میں ہیں لیکن اگر دیکھا جائے تو اول تو بہت کم ایسے نظر آئیں گے جو سو فیصد ہر نیکی کو بجالانے والے ہیں جن سے کبھی گناہ سرزدہ نہ ہوا ہو اللہ تعالیٰ تو کسی بھی جرم کی سزا میں پکڑ سکتا ہے۔اور دوسرے یہ کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ ان نیک لوگوں کے آباء واجداد بھی نیک ہی تھے۔اگر وہ اسی وقت پکڑے جاتے تو یہ نسل ہی نہ آتی۔یہ نیک نسل آگے چل ہی نہیں سکتی تھی اور ہوتے ہوتے آگے پھر نسل ختم ہی ہو جاتی۔پس اگر اللہ تعالیٰ ہر گناہ کی فوری سزا اور پکڑ اور عذاب شروع کر دے تو نسل انسانی کا خاتمہ ہو جائے۔یہ ٹھیک ہے کہ بہت سوں کو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں بھی سزا دیتا ہے۔لیکن جب شیطان نے کہا تھا کہ میں انسانوں کو ورغلانے کے لئے ان کے