خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 108 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 108

خطبات مسرور جلد ششم 108 خطبه جمعه فرموده 7 مارچ 2008 اور وہ راہیں اس کے لئے میسر اور آسان کر دینا جن کے حصول کے لئے اس کی فطرت میں استعدا در کھی گئی ہے اور لفظ أَقْوَمُ سے آیت يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَم میں یہی راستی مراد ہے“۔کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 53-54) پھر آپ اس صحیفہ فطرت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : " قرآن کوئی نئی تعلیم نہیں لایا بلکہ اس اندرونی شریعت کو یاد دلاتا ہے جو انسان کے اندر مختلف طاقتوں کی شکل میں رکھی ہے۔حلم ہے۔ایثار ہے۔شجاعت ہے۔صبر ہے۔غضب ہے۔قناعت ہے وغیرہ۔غرض جو فطرت باطن میں رکھی تھی قرآن نے اسے یاد دلایا۔جیسے فِي كِتَابٍ مَّكْنُون یعنی صحیفہ فطرت میں کہ جو چھپی ہوئی کتاب تھی اور جس کو ہرا ایک شخص نہ دیکھ سکتا تھا۔اسی طرح اس کتاب کا نام ” ذکر بیان کیا تا کہ وہ پڑھی جاوے تو وہ اندرونی اور روحانی قوتوں اور اس نور قلب کو جو آسمانی ودیعت انسان کے اندر ہے یاد دلا وے۔غرض اللہ تعالیٰ نے قرآن کو بھیج کر بجائے خود ایک روحانی معجزہ دکھایا تا کہ انسان ان معارف اور حقائق اور روحانی خوارق کو معلوم کرے جن کا اسے پتہ نہ تھا۔ہیں کہ: رپورٹ جلسہ سالانہ 1897ء صفحہ 94) قرآن کریم کو تدبر سے پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے "جو شخص قرآن کے سات سو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتا ہے۔حقیقی اور کامل نجات کی راہیں قرآن نے کھولیں اور باقی سب اس کے ظلن تھے۔سو تم قرآن کو تدبر سے پڑھو اور اس سے بہت ہی پیار کرو۔ایسا پیار کہ تم نے کسی سے نہ کیا ہو۔کیونکہ جیسا کہ خدا نے مجھے مخاطب بہ کر کے فرمایا الْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرآن کہ تمام قسم کی بھلائیاں قرآن میں ہیں۔یہی بات سچ ہے۔افسوس ان لوگوں پر جو کسی اور چیز کو اُس پر مقدم رکھتے ہیں۔تمہاری تمام فلاح اور نجات کا سرچشمہ قرآن میں ہے۔کوئی بھی تمہاری ایسی دینی ضرورت نہیں جو قرآن میں نہیں پائی جاتی۔تمہارے ایمان کا مصدق یا مکذب قیامت کے دن قرآن ہے۔اور بجز قرآن کے آسمان کے نیچے اور کوئی کتاب نہیں جو بلا واسطہ قرآن تمہیں ہدایت دے سکے“۔(یعنی قرآن کے واسطے کے بغیر کوئی اور تمہیں ہدایت نہیں دے سکتا ) ” خدا نے تم پر بہت احسان کیا ہے جو قرآن جیسی کتاب تمہیں عنایت کی۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ کتاب جو تم پر پڑھی گئی اگر عیسائیوں پر پڑھی جاتی تو وہ ہلاک نہ ہوتے۔اور یہ نعمت اور ہدایت جو تمہیں دی گئی اگر بجائے توریت کے یہودیوں کو دی جاتی تو بعض فرقے ان کے قیامت سے منکر نہ ہوتے۔پس اس نعمت کی قدر کرو جو تمہیں دی گئی۔یہ نہایت پیاری نعمت ہے۔یہ بڑی دولت ہے۔