خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 103
خطبات مسرور جلد ششم 103 خطبه جمعه فرموده 7 مارچ 2008 تو اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بنتا ہے کہ اس زمانے کی پیشگوئیوں کے پورے ہونے کے نظارے دیکھے۔اور اس پر پھر مستزاد یہ کہ ایک احمدی شکر گزاری کرتا ہے کہ جس مسیح و مہدی کے آنے کی آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرمائی تھی ، جس کے زمانے میں یہ قرآنی پیشگوئیاں پوری ہوئی تھیں ، اسے ماننے کی بھی ہمیں توفیق ملی۔پھر نئے سائنسی انکشافات ہیں۔ان کو دیکھ کر بھی اللہ تعالیٰ کی حمد سے دل لبریز ہوتا ہے، دل بھر جاتا ہے۔چودہ سوسال پہلے یہ باتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم کے ذریعے سے بتا دیں۔پرانی قو میں جنہوں نے نبیوں کا انکار کیا اور اس انکار کی وجہ سے ان سے جو سلوک ہوا اس پر ایک خدا کا خوف رکھنے والا ، قرآن کریم کا ترجمہ سمجھنے والا، اس کے الفاظ کو مجھنے والا استغفار کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اس حالت سے بچایا ہوا ہے اور آئندہ بھی بچائے رکھے۔تو جتنا جتنا فہم وادراک ہوگا اتنا اتنا اللہ تعالیٰ کی کامل کتاب پر ایمان اور یقین بڑھتا جائے گا۔اور یہی چیز ہے جو حق تلاوت ادا کرنے والی ہے۔آنحضرت ہ اس بارہ میں کیا نصیحت فرماتے ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے۔کہ حضرت عبیدہ ملیکی رضی اللہ عنہ جو صحابہ میں سے ہیں یہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے اہل قرآن! قرآن پڑھے بغیر نہ سویا کرو اور اس کی تلاوت رات کو اور دن کے وقت اس انداز میں کرو جیسے اس کی تلاوت کرنے کا حق ہے۔اور اس کو پھیلا ؤ اور اس کو خوش الحانی سے پڑھا کرو اور اس کے مضامین پر غور کیا کرو تا کہ تم فلاح پاؤ۔(رواہ البیہقی فی شعب الایمان بحوالہ مشكاة المصابيح كتاب الفضائل کتاب فضائل القرآن حدیث نمبر 2210 ) پس اس آیت کی مزید وضاحت بھی ہو گئی کہ حق تلاوت ادا کر کے صرف گھاٹے سے ہی نہیں بچ رہے ہو گے جیسا کہ اس کے آخر میں لکھا ہوا ہے بلکہ ان لوگوں میں شامل ہو رہے ہو گے جو فلاح پانے والے ہیں۔ان لوگوں میں شامل ہونے جارہے ہو جو کامیابیاں حاصل کرنے والے ہیں۔پھر ایک روایت میں حق تلاوت ادا کرنے والے کے مقام بلکہ اس کے والدین کے مقام کا بھی ، جنہوں نے ایک بچے کو اس تلاوت کی عادت ڈالی ، ذکر یوں ملتا ہے۔سھل بن معاذ جھنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے قرآن پڑھا اور اس پر عمل کیا تو قیامت کے دن اس کے ماں باپ کو دو تاج پہنائے جائیں گے جن کی روشنی سورج کی چمک سے بھی زیادہ ہوگی جوان کے دنیا کے گھروں میں ہوتی تھی۔پھر جب ان کے والدین کا یہ درجہ ہے تو خیال کرو کہ اس شخص کا کیا درجہ ہوگا جس نے قرآن پر عمل کیا۔(ابوداؤد کتاب الوتر باب ثواب قراءة القرآن حدیث نمبر 1453) پس والدین کو بھی توجہ کرنی چاہئے کہ یہ اعزاز ہے جو بچوں کو قرآن پڑھانے پر والدین کو ملتا ہے۔تو اپنے بچوں کو اس خوبصورت کلام کے پڑھانے کی طرف بھی توجہ دیں اور ان میں پڑھنے کی ایک لگن بھی پیدا کریں۔