خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 102
102 خطبه جمعه فرموده 7 مارچ 2008 خطبات مسرور جلد ششم پس یہ ہے تلاوت کا حق جس کے متعلق حضرت میں موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وضاحت فرمائی ہے۔ایک وقت تھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ صحیح طور پر قرآن کریم نہیں پڑھا جاتا جماعت کو صحت تلفظ کی طرف توجہ دلائی تھی کہ اس طرح پڑھا جائے۔کیونکہ زیر زبر پیش کی بعض ایسی غلطیاں ہو جاتی تھیں، کہ ان غلطیوں کی وجہ سے معنے بدل جاتے ہیں یا مفہوم واضح نہیں ہوتا۔تو اس طرح آپ نے صحت تلفظ کی طرف توجہ دلائی تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے بعد جماعت میں اس طرف خاص توجہ پیدا ہوئی۔لیکن اس بات کی ضرورت ہے کہ ترجمہ قرآن کی طرف بھی توجہ دی جائے۔ذیلی تنظیمیں بھی کام کریں۔جماعتی نظام بھی کام کرے۔یہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے انصار الله یو کے نے شروع کیا ہے۔یہ انٹرنیٹ کے ذریعہ سے بھی پڑھا رہے ہیں اس سے استفادہ کرنا چاہئے۔کیونکہ ترجمہ آئے گا تو پھر ہی صحیح اندازہ ہو سکے گا کہ احکامات کیا ہیں؟ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ غور کر تبھی غور کی عادت پڑے گی۔عمل کی طرف توجہ پیدا ہوگی اور یہی تلاوت کا حق ہے۔ایک صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سوال کیا کہ قرآن شریف کس طرح پڑھا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: قرآن شریف تدبر و تفکر و غور سے پڑھنا چاہئے۔حدیث شریف میں آیا ہے۔رُبَّ قَارِ يَلْعَنُهُ الْقُرْآنُ - یعنی بہت ایسے قرآن کریم کے قاری ہوتے ہیں۔پڑھنے والے ہیں کہ جن پر قرآن کریم لعنت بھیجتا ہے۔جو شخص قرآن پڑھتا اور اس پر عمل نہیں کرتا اس پر قرآن مجید لعنت بھیجتا ہے۔فرمایا: ” تلاوت کرتے وقت جب قرآن کریم کی آیت رحمت پر گزر ہو تو وہاں خدا تعالیٰ سے رحمت طلب کی جاوے اور جہاں کسی قوم کے عذاب کا ذکر ہو تو وہاں خدا تعالیٰ کے عذاب سے خدا تعالیٰ کے آگے پناہ کی درخواست کی جاوے اور تدبر دغور سے پڑھنا چاہئے اور اس پر عمل کیا جاوے“۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 157 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس یہ اسلوب ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں قرآن کریم پڑھنے کے بارے میں بتا دیا۔اور جیسا کہ میں نے کہا یہ بھی ممکن ہے جب اس کا ترجمہ آتا ہوگا۔اب بہت سے ایسے ہیں جن کی تلاوت بہت اچھی ہے۔دل کو بھاتی ہے لیکن صرف آواز اچھی ہونا ان پڑھنے والوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی جب تک کہ وہ اس کو سمجھ کر نہ پڑھیں۔کسی بھی اچھی آواز کی تلاوت اس شخص کو تو فائدہ پہنچا سکتی ہے جو اچھی آواز میں یہ تلاوت سن رہا ہے اور اس کا مطلب بھی جانتا ہے۔جب پیشگوئیوں کے بارے میں سنتا ہے اور پھر اپنے زمانے میں انہیں پوری ہوتی دیکھتا ہے