خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 104
خطبات مسرور جلد ششم 104 خطبه جمعه فرموده 7 مارچ 2008 پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: وہ شخص جو قرآن کریم پڑھتا ہے اور اس کا حافظ ہے وہ ایسے لکھنے والوں کے ساتھ ہو گا جو بہت معزز اور بڑے نیک ہیں۔اور وہ شخص جو قرآن کریم کو پڑھتا ہے اور اس کی تعلیمات پر شدت سے کار بند ہوتا ہے اس کے لئے دوہرا اجر ہے۔( بخاری کتاب التفسير باب سورۃ عبس حدیث نمبر 4937) ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یقیناً یہ دل بھی صیقل کئے جاتے ہیں جس طرح لوہے کے زنگ آلود ہونے پر اسے صیقل کیا جاتا ہے۔کہا گیا کہ اے اللہ کے رسول ! اس کی صفائی کیسے کی جائے؟ یعنی دل کی صفائی کس طرح کی جاتی ہے۔تو آنحضور ﷺ نے فرمایا: موت کو کثرت سے یاد کرنا اور قرآن کریم کی تلاوت کرنا۔(الجامع شعب الایمان لمینی جلد نمبر 3 باب التسع عشر وهو باب فی تعظیم القرآن فصل في ادمان تلاوة القرآن حدیث نمبر 1859- مكتبة الرشد ریاض طبع عانی 2004 ) پس موت کی یاد اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہیں رکھتی۔اس پر یقین ہو کہ جزا سزا کا دن آنا ہے۔اور قرآن کریم کی تلاوت، اس کا حق ادا کرنے سے نیکیوں کی توفیق ملتی ہے۔اس حق ادا کرنے کی وجہ سے ایک مومن اس دنیا میں بہترین اجر حاصل کرنے والا بن جاتا ہے اور آخرت میں بھی اس کے لئے بہترین اجر ہوتا ہے۔صاف دل ہوکر حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی کی طرف ایک مومن کی توجہ رہتی ہے۔آنحضرت ﷺ کس طرح قرآن پڑھتے تھے؟ اس کی وضاحت بھی ضروری ہے۔کیونکہ بعض لوگ قرآن کریم جلدی جلدی پڑھنے میں زیادہ قابلیت سمجھتے ہیں جبکہ آنحضرت ﷺ کا طریق اس سے بالکل مختلف تھا۔اس بارے میں ایک روایت میں آتا ہے: حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کی قراءت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ نبی کریم یہ شہر شہر کر تلاوت کیا کرتے تھے۔(ابوداؤد - کتاب الوتر باب استحاب الترتيل في القراءة حديث نمبر 1465) آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے قرآن کریم کے کئی بطن ہیں۔یعنی اس کے الفاظ میں اتنے گہرے حکمت کے موتی ہیں کہ ہر دفعہ جب ایک غور کرنے والا اس کی گہرائی میں جاتا ہے تو نیا حسن اس کی تعلیم میں دیکھتا ہے۔آنحضرت ہ سے زیادہ تو کوئی اس گہرائی کا علم نہیں رکھ سکتا جو قرآن کریم کے الفاظ میں ہے۔پس آپ جب ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے تو ان الفاظ کے مطالب، ان کے معانی ، ان کی گہرائی کی تہ تک پہنچتے تھے۔لیکن آپ کا یہ اسوہ ہمیں اس بات پر توجہ دلاتا ہے کہ قرآن کریم کو غور اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں اور تدبر اور فکر کریں۔اسی غور و فکر کی طرف توجہ دلانے کے لئے آپ نے اپنے ایک صحابی کو یوں تلقین فرمائی تھی۔