خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 101
101 خطبه جمعه فرموده 7 مارچ 2008 خطبات مسرور جلد ششم نے ایک تو ان یہود کا یہ رد کر دیا کہ تمہاری کتاب اب اس قابل نہیں رہی کہ اسے اب سچی کہا جا سکے کیونکہ تمہارے عمل اس کے خلاف ہیں۔بعض باتوں کو چھپاتے ہو بعض کو ظاہر کرتے ہو۔پس تمہاری کتاب اب ہدایت نہیں دے سکتی۔بلکہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد، اس شریعت کے اترنے کے بعد، یہ قرآن کریم ہی ہے جو ہدایت کا راستہ دکھانے والی کتاب ہے جس نے اب دنیا میں ہدایت قائم کرنی ہے۔پس صحابہ رضوان اللہ علیہم نے یہ ثابت کیا ، ان کی زندگیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ وہ مومن ہیں جنہوں نے اس کتاب کی تلاوت کا حق ادا کیا اور یہی ایمان لانے والے کہلائے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کو اعمال صالحہ کے ساتھ مشروط کیا ہے۔پس حقیقی مومن وہ ہیں جو تلاوت کا حق ادا کرتے ہیں اور حقیقی مومن وہ ہیں جو اعمال صالحہ بجالاتے ہیں۔لہذا تلاوت کا حق وہی ادا کرنے والے ہیں جو نیک اعمال کرنے والے ہیں۔پس اس زمانے میں یہ مسلمانوں کے لئے اندار بھی ہے کہ اگر تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو اور وہ عمل نہیں جن کا کتاب میں حکم ہے تو ایمان کامل نہیں۔اس زمانے کے حالات کے بارے میں ( جو حضرت مسیح موعود کے زمانے کے حالات تھے ) آنحضرت علی نے انذار فرمایا ہے جو ظاہر وباہر ہے، ہر ایک کو پتہ ہے۔احادیث میں ذکر ہے اور ایسے حالات میں ہی مسیح موعود کا ظہور ہونا تھا جب یہ حالات پیدا ہونے تھے۔پس حق تلاوت ادا کرنے والے وہی لوگ ہوں گے جو فی زمانہ اس مہدی کی جماعت میں شامل ہو کر قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرنے والے بھی ہوں گے۔پس یہ ذمہ داری ہے ہر احمدی کی کہ وہ اپنے جائزے لے کہ کس حد تک ان احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں دیئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: لوگ قرآن شریف پڑھتے ہیں مگر طوطے کی طرح یونہی بغیر سوچے سمجھے چلے جاتے ہیں۔جیسے ایک پنڈت اپنی پوتی کو اندھا دھند پڑھتا جاتا ہے۔نہ خود سمجھتا ہے اور نہ سننے والوں کو پتہ لگتا ہے۔اسی طرح پر قرآن شریف کی تلاوت کا طریق صرف یہ رہ گیا ہے کہ دو چار سپارے پڑھ لئے اور کچھ معلوم نہیں کہ کیا پڑھا۔زیادہ سے زیادہ یہ کہ سُر لگا کر پڑھ لیا اور ”ق“ اور ”ع“ کو پورے طور پر ادا کر دیا۔قرآن شریف کو عمدہ طور پر اور خوش الحانی سے پڑھنا بھی ایک اچھی بات ہے۔مگر قرآن شریف کی تلاوت کی اصل غرض تو یہ ہے کہ اس کے حقائق اور معارف پر اطلاع ملے اور انسان ایک تبدیلی اپنے اندر پیدا کرے۔یہ یاد رکھو کہ قرآن شریف میں ایک عجیب وغریب اور سچا فلسفہ ہے۔اس میں ایک نظام ہے جس کی قدر نہیں کی جاتی۔جب تک نظام اور ترتیب قرآنی کومد نظر نہ رکھا جاوے، اس پر پورا غور نہ کیا جاوے، قرآن شریف کی تلاوت کے اغراض پورے نہ ہوں گے“۔(الحکم جلد 5 نمبر 12 مورخہ 31 مارچ 1901ء صفحہ 3)