خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 91 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 91

خطبات مسرور جلد ششم 91 خطبہ جمعہ فرموده 29 فروری 2008 بہر حال اس کے پیچھے بھی ایک بہت بڑا ہاتھ لگتا ہے۔یہ ایک بڑی تنظیم کی سازش ہے لیکن وہاں بھی رد عمل ہو رہا ہے اور حکومت نے تمام مسلمانوں کے اماموں کے ساتھ ، میئرز کے ذریعہ سے میٹنگیں بھی کی ہیں۔جماعت نے بھی خط لکھے تھے اور ملکہ کو یہاں سے خط لکھا تھا، کا بینہ کے ممبران کو بھی خط لکھے تھے اور بڑا واضح طور پر لکھا تھا کہ جو ایسی منفی اور بے بنیاد حرکتیں ہیں اس سے ہمارا پر امن معاشرہ متاثر ہو گا۔نیز خطوں کے ساتھ میرا پیس کا نفرنس ( Peace Conference) کا ایک ایڈریس بھی دیا ہے۔بہر حال ممبر پارلیمنٹ اور کافی لوگوں نے اس پر مثبت رد عمل ظاہر کیا ہے۔سپیکر نے لکھا ہے کہ میں نے آپ کا خط تمام ممبران پارلیمنٹ کو تقسیم کروا دیا ہے اور ملکہ نے بھی اپنے کرسمس کے پیغام میں اس بات کا اظہار کیا کہ معاشرے میں بدامنی پھیلانے والے منفی بیانات سے جن سے کسی کی دل آزاری ہو، پر ہیز کرنا چاہئے۔اور اس نے یہ وزیر اعظم کو بھی پیغام بھجوایا۔ولڈ رز (Wilders) جس نے یہ مہم شروع کی تھی ، اس نے یہ ملکہ کے خلاف بھی اب پارلیمنٹ میں بھیجا ہے کہ ملکہ نے میری طرف اشارہ کیا ہے اور ملکہ کا حکومت میں دخل بند ہونا چاہئے۔بہر حال یہ ان کی کوششیں ہیں اللہ تعالیٰ انہی میں سے لوگ بھی پیدا کر رہا ہے جو ر د بھی کرتے ہیں۔بعض نیک فطرت ہیں بلکہ بہت ساری تعداد ہے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ نیک فطرتوں کی تعداد بڑھتی چلی جائے اور یہ باز آ جائیں ور نہ خدا کی تقدیر جب چاہتی ہے تو پھر اپنا کام کرتی ہے اور پھر کسی کو چھوڑتی نہیں۔قرآن کریم پر حملہ کرتے ہوئے ایک کینیڈین عیسائی مشنری ڈان رچرڈسن (Don Richardson) نے ایک کتاب تین چار سال پہلے لکھی ہے جس کا نام ہے دی سیکرٹس آف قرآن ( The Secrets of the Quran)۔یہ بھی دل کے کینوں اور بغضوں سے بھری ہوئی کتاب ہے۔قرآن کریم کی مختلف آیات کا ترجمہ لکھ کر پھر تبصرہ کیا ہے اور ہوشیاری یہ کی ہے کہ چند ایک آیات لے کر ہر جگہ مختلف جو سات آٹھ ترجمے اس کو انگلش میں ملے وہ بیان کئے ہیں۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا جو ترجمہ قرآن ہے اس کا بھی کچھ حصہ لیا گیا ہے اور چوہدری صاحب کے ترجمہ پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ بائبل کے کرداروں کو عربی کی بجائے انگلش طرز پر بیان کیا گیا ہے۔لیکن حیرت ہے کہ طالوت کو بائبل کے لفظ کی بجائے عربی طرز پر لکھا ہے۔یعنی طالوت کو طالوت ہی لکھا ہے اور نتیجہ اس کے بعد یہ نکالتا ہے کہ یہ اس لئے کیا ہے کہ نعوذ باللہ آ نحضرت ﷺ کی غلطیوں کو غیر عرب لوگوں سے چھپایا جائے۔یہ تو ہمارے ترجمے کا طریق ہے۔اگر یہ اتناہی ایماندار ہے تو جو Five Volume Commentary ہے اس میں Foot Notes دیئے گئے ہیں اس کو بھی دیکھتا۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا ترجمہ تو میں نہیں دیکھ سکا لیکن جو کمنٹری ہے اس میں سورۃ البقرہ میں جہاں یہ آیت ، حضرت داؤڈ کے ضمن میں آتی ہے، وہاں نیچے Foot Notes میں بائبل کے جو الفاظ ہیں وہ بھی استعمال کئے گئے ہیں۔کتاب پوری نہیں تھی کسی نے نوٹس بھیجے تھے اس لئے پورا تبصرہ تو نہیں