خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 92 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 92

خطبات مسرور جلد ششم 92 خطبه جمعه فرموده 29 فروری 2008 ہوسکتا۔بہر حال وہ کتاب میں نے منگوائی ہے۔لیکن بظاہر اس سے جو بھی میں نے چند ایک صفحے دیکھے ہیں یا کچھ کچھ اس میں پیرے دیکھے ہیں، اسلام کے خلاف کینہ اور بغض صاف جھلکتا ہے۔پھر ایک جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ بہت سے آزاد خیال امریکن سمجھتے ہیں کہ 1۔3 بلین (Billion) مسلمان جو قرآن پر ایمان رکھتے ہیں تو یقینا اس میں پیغام صحیح اور سچا ہوگا تبھی تو ایمان رکھتے ہیں۔وہ لکھتا ہے کہ یہ ان امریکنوں کی بھول ہے اسلام میں کوئی سچائی نہیں، قرآن میں کوئی سچائی نہیں ہے۔پھر صدر بش کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے آگے لکھتا ہے کہ صدر بش اچھے آدمی ہیں لیکن بہت سے مغربی لوگوں کی طرح اسلام کے بارے میں بالکل لاعلم ہیں کیونکہ 9/11 کے بعد انہوں نے کھلے عام دہشت گردوں کے خلاف جنگ کو کروسیڈ (Crusade) کا نام دے دیا تھا۔مذہبی جنگ کا نام دے دیا تھا۔یہ ان کی سادگی ہے اور ان کے کسی مشیر نے ان کو مشورہ بھی نہیں دیا۔خلاصہ آگے اس کا یہ بنتا ہے کہ بے شک یہ Crusade ہی سمجھتے لیکن کھلے عام نہ کہتے۔کیونکہ اس سے پھر عیسائیت کا اس سے برا اثر پڑتا ہے۔تو یہاں تک ان لوگوں کا اسلام کے خلاف اور قرآن کے خلاف بغض اور کینہ بھرا ہوا ہے لیکن ان سب اسلام دشمنوں اور قرآن کے مخالفین کو یا درکھنا چاہئے کہ یہی وہ تعلیم ہے جس کے بارے میں خدا تعالیٰ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غالب آنا ہے انشاء اللہ۔یہ الہی تقدیر ہے اور اس کو ان کے دجل یا طاقت یا روپیہ یا پیسہ روک نہیں سکتے۔لیکن افسوس ہوتا ہے بعض مسلمان حکومتوں پر بھی جو بظاہر مسلمان ہیں لیکن اپنے مقصد کو بھولی ہوئی ہیں، اپنی ظاہری شان وشوکت کی وجہ سے انجانے میں یا جان بوجھ کر اسلام کو کمزور کر رہی ہیں۔صرف اس لئے کہ اپنی ظاہری شان و شوکت قائم رہے۔ایک امریکن نے ایک کتاب میں اس کا ذکر کیا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس میں اسلامی ملکوں کے جو بعض سر براہ ہیں ان کا بھی ہاتھ ہے تا کہ جو دولت ہے وہ مغرب کے ہاتھ میں آجائے اور اس میں سے اسلامی حکومتیں اپنا حصہ لیتی رہیں۔یعنی وہ افراد حصہ لیتے رہیں۔عوام کو تو پتہ ہی نہیں۔ایسے لوگ جن کے دل کینوں سے پر ہیں جو قرآن اس لئے کھولتے اور دیکھتے ہیں کہ اس میں اعتراض تلاش کئے جائیں۔جن کے دل پتھروں کی طرح سخت ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ان کو یہ تعلیم جو قرآن کی تعلیم ہے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔جن کے دل خود کینوں اور بغضوں سے بھرے ہوں ، گند میں رہنے کے عادی ہوں اور اس گند میں رہنے پر پھر اصرار بھی ہو ، وہ بھلا اس پاک چشمے سے کس طرح فیض پاسکتے ہیں۔قرآن کریم میں تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيْمٌ فِي كِتَابٍ مَّكْنُونِ لَا يَمَسُّةٌ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ( الواقعة : 80-78) کہ یقینا یہ ایک عزت والا قرآن ہے۔ایک چھپی ہوئی کتاب میں محفوظ ہے۔کوئی اسے چھو نہیں سکتا سوائے پاک کئے ہوئے لوگوں کے۔ان آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ (الواقعہ: 76) پس میں ستاروں کے جھرمٹ کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں۔اس آیت کو بھی