خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 90
خطبات مسرور جلد ششم 90 خطبه جمعه فرموده 29 فروری 2008 اظہار بڑے منصوبے سے کر رہی ہیں۔جو عاجز بندے کو خدا کے مقابلے پر کھڑا کر کے شرک کو دنیا میں قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔اس میں ہر طرح کے لوگ شامل ہیں۔اور اسی وجہ سے پھر دباؤ ڈالا گیا۔ہمارا جو عربی چینل بند کیا گیا تھا، اس کے پیچھے عیسائیوں کا بہت بڑا ہاتھ تھا جنہوں نے بڑی حکومتوں کے ذریعہ سے دباؤ ڈلوایا تھا۔تو ایسے جو لوگ ہیں وہ بھلا اسلام کی شرک سے پاک تعلیم اور عین فطرت انسانی کے مطابق تعلیم کو کس طرح پہنچنے دے سکتے ہیں۔جبکہ یہ لوگ چاہے وہ مذہب کی آڑ میں کریں یا سیاست کی آڑ میں کریں، آجکل دنیا کا الہ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔دنیا کا معبود بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔دنیا کا مالک بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔دنیا کا رب بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔پس یہ بڑے دماغ اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔جنہیں خطرہ ہے کہ اسلام اگر پھیل گیا تو دوسرے مذاہب کی حیثیت معمولی رہ جائے گی۔لیکن یہ ان کی سوچیں ہیں، جو چاہیں کر لیں۔اسلام کا مقدر تو اب پھیلنا ہے اور انشاء اللہ اس نے پھیلنا ہے لیکن نہ کسی قسم کی دہشت گردی سے، نہ کسی قسم کی عسکریت سے بلکہ مسیح و مہدی کے ذریعہ سے، اس پیغام کے ذریعہ سے جو قرآن کریم میں پیار و محبت پھیلانے کیلئے دیا گیا ہے اور دین فطرت کے اظہار کے ذریعہ سے۔پس چاہئے کہ ہم میں سے ہر ایک کوشش کرے کہ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں۔یہ اخبار جتنی چاہے کوششیں کرلیں یا ان کے ممبر پارلیمنٹ جتنی چاہے کوششیں کر لیں یا حکومتیں جتنی چاہے کوششیں کر لیں یا دوسرے مذاہب کے جو ہنما ہیں وہ بھی جتنی چاہے کوششیں کرلیں، اللہ تعالیٰ نے جو مقدر کر دیا ہے وہ اب رک نہیں سکتا۔گزشتہ دنوں ہالینڈ کے ممبر پارلیمنٹ جو اپنی پارٹی بنارہے ہیں ، ان کو ان کی پارٹی سے صرف اس وجہ سے نکال دیا گیا کہ ان میں مسلمانوں کے خلاف بڑی شدت پسندی تھی۔اور اسلام کے خلاف یہ بڑے گرمجوش ہیں۔انہوں نے پھر ایک بیان دیا جو آنحضرت ﷺ کی ذات مبارک کے بارے میں تھا۔بڑا توہین آمیز بیان تھا۔دوہرانے کی ضرورت نہیں۔قرآن کریم کے بارے میں نہایت نا مناسب اور توہین آمیز بیان دیا۔اور یہ اسلام دشمنی میں اس حد تک بڑھے ہوئے ہیں کہ جو ڈنمارک کے کارٹون چھپے ان کو اپنی ویب سائٹ پر لگایا اور پھر اس کی بڑی تعریف کی۔بہر حال اللہ تعالیٰ خودان سے نپٹے گا۔قرآن کریم کے بارے میں جو بیان ہے اس میں لکھتے ہیں کہ ( رپورٹ جو منگوائی تھی یہ اس کا ترجمہ ہے ) قرآن مجید دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے۔اس لئے اس پر پابندی لگانی چاہئے اور نعوذ باللہ آدھا قرآن پھاڑ کر پھینک دینا چاہئے۔اس وقت یہ شخص قرآن کے خلاف فلم بھی بنارہا ہے۔پہلے ان کا ریلیز کرنے کا ارادہ تھا فی الحال نہیں کر سکے۔بہت ساری مسلمان تنظیمیں حکومت کو لکھ بھی رہی ہیں اور جماعت بھی لکھ رہی ہے۔فلم کا نام انہوں نے فتنہ رکھا ہے۔کسی نے ان سے پوچھا کہ تم اس میں دکھاؤ گے کیا ؟ تو کہتے ہیں کہ قرآن کا یہ حکم دکھاؤں گا کہ جب کافروں سے میدان جنگ میں ملو تو گردنیں کاٹو۔اب جو حملہ آور ہوگا تو بہر حال دفاع کے لئے جنگ تو ہوگی۔اور پھر یہ کہتے ہیں کہ دکھاؤں گا کہ عراق اور افغانستان میں اغوا کے بعد سر قلم کئے جاتے ہیں۔