خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 85
خطبات مسر در جلد پنجم 85 خطبہ جمعہ 2 / مارچ 2007ء اللہ کے اس مال میں سے جو اس نے آپ کو عنایت فرمایا ہے ان دو اونٹوں پر لاد دیں کیونکہ آپ نہ تو مجھے اپنے مال میں سے اور نہ ہی اپنے والد کے مال میں سے دیں گے۔پہلے تو نبی کریم ﷺ خاموش رہے۔پھر فرمایا۔اَلْمَالُ مَالُ اللهِ وَأَنَا عَبُدُہ۔مال تو اللہ ہی کا ہے اور میں اس کا بندہ ہوں۔پھر آپ نے فرمایا تم نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے اس کا بدلہ تم سے لیا جائے گا۔بد و نے کہا: نہیں۔تو آپ نے فرمایا کہ کیوں؟ تم سے بدلہ کیوں نہیں لیا جائے گا۔اس بد و نے کہا اس لئے کہ آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے۔اس پر نبی کریم ﷺ ہنس پڑے۔پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس کے ایک اونٹ پر جو اور دوسرے پر کھجور میں لا ددی جائیں۔(الشفاء لقاضي عياض۔الباب الثاني في تكميل الله تعالى۔۔۔الفصل واما الحلم جلد اول صفحه 74۔دار الكتب العلمية بيروت (2002ء) تو دونوں لا ددیئے۔یہ بد و بھی کوئی بے وقوف نہیں تھا۔اسے پتہ تھا کہ جو چاہے آپ کے سامنے بول لوں۔جیسا بھی سلوک کرلوں اس سراپا رحمت کی طرف سے صرف عفو اور درگز راور رحمت کا اظہار ہی ہونا ہے۔پھر مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی یاد کی طرف ہر وقت متوجہ رکھنے کے لئے تا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے حصہ لیتے رہیں آپ مختلف طریقوں سے توجہ دلاتے تھے۔پہلی قوموں پر جو سماوی آفات کے ذریعہ سے عذاب آتے رہے اور جس کے ذریعہ سے ان کے نام ونشان صفحہ ہستی سے مٹ گئے ان کا کیونکہ آپ کو سب سے زیادہ احساس تھا اور خیال فرماتے تھے کہ مجھے ماننے والے یا ارد گرد کے رہنے والے آج بھی کسی غلطی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے نہ آ جا ئیں۔اس لئے جب بھی کبھی ہوایا آندھی یا بارش کو دیکھتے تو خود بھی اللہ تعالیٰ کا رحم طلب کرتے ، دعاؤں میں لگ جاتے اور مسلمانوں کو بھی نصیحت فرماتے کہ اس کا رحم طلب کرو کہ یہ ہوا، آندھی یا بارش جو آ رہی ہے یہ کہیں اللہ تعالی کا غضب لانے والی ، عذاب لانے والی نہ ہو۔پس جب بھی ہوا یا بارش دیکھتے تو اللہ تعالیٰ کا رحم طلب فرماتے۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم ہوا کو بُرا بھلا نہ کہا کرو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جو کہ رحمت اور عذاب دونوں کو لاتی ہے۔لیکن اللہ سے اس کی خیر چاہا کرو (اور جب اسے دیکھو اللہ سے اس کی خیر چاہا کرو ) اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔(سنن ابن ماجه کتاب الادب باب النهي عن سبّ الريح حديث نمبر (3727 عطاء بن ابی رباح نے حضرت عائشہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جس دن میں ہوا چلتی ، بادل آتے تو آپ کے چہرے پر اس کے آثار نظر آتے اور آپ کبھی تشریف لاتے اور کبھی چلے جاتے۔یعنی پریشانی میں ٹہلتے رہتے۔جب بارش ہوتی تو اس کی وجہ سے آپ خوش ہو جاتے اور پریشانی آپ سے جاتی رہتی۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: مجھے اس بات کا ڈر رہتا ہے کہ یہ کوئی عذاب نہ ہو جو میری امت پر مسلط کر دیا جائے۔اور آپ بارش کو دیکھ کر کہتے کہ اب رحمت ہے۔(صحيح مسلم كتاب صلاة الاستسقاء باب التعوذ عند رؤية الريح والغيم والفرح بالمطر حدیث نمبر (1968