خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 86
86 خطبہ جمعہ 2 / مارچ 2007ء خطبات مسر در جلد پنجم اس سراپا رحمت نے اس موقع پر خود بھی دعائیں کیں اور جود عا ئیں سکھائیں۔وہ ایک دو میں یہاں نمونہ پیش کرتا ہوں۔ایک دعا آپ نے آندھی، ہوا، بارش اور طوفانوں کو دیکھ کر یہ سکھائی کہ اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْئَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَمَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ وَاَعُوذُبِكَ مِنْ شَرِهَا وَ شَرِّمَا فِيهَا وَ شَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ۔(صحیح مسلم کتاب صلاة الاستسقاء باب التعوذ عند رؤية الريح والغيم والفرح بالمطر حديث نمبر (1969 کہ اے اللہ میں تجھ سے اس کی ظاہری و باطنی خیر و بھلائی چاہتا ہوں اور وہ خیر بھی چاہتا ہوں جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے اور میں اس کے ظاہری و باطنی شر سے اور اس شر سے بھی پناہ مانگتا ہوں جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے۔پھر ایک دعا آپ نے یہ سکھائی کہ اَللَّهُمَّ اِنّى اَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ وَ فَجَاءَةِ نِقْمَتِكَ وَجَمِيعِ سَخَطِكَ۔(صحیح مسلم کتاب الرقاق باب اكثر اهل الجنة الفقراء واكثر اهل النار النساء و بيان الفتنة بالنساء حديث نمبر (6838 کہ اے اللہ میں تیری نعمت کے زائل ہونے سے، تیری عافیت کے ہٹ جانے سے، تیری اچانک سزا اور ان سب باتوں سے پناہ مانگتا ہوں جن سے تو ناراض ہو۔پھر دیکھیں اس سراپا رحمت نے ایک غریب عورت کو جو قریب المرگ تھی ، اپنی رحمت اور دعاؤں سے نوازنے کے لئے کیا سلوک فرمایا اور پھر وفات کے بعد بھی اس کے لئے مغفرت کی دعا کی اور رحمت کے جذبات کا اظہار فرمایا۔ایک روایت میں آتا ہے۔ابن شہاب روایت کرتے ہیں کہ انہیں ابوامامہ نے بتایا کہ مدینہ کی بیرونی بستیوں کی غریب عورت بہت بیمار پڑگئی۔نبی کریم ﷺ اس کی صحت کے بارے میں صحابہ سے دریافت فرمایا کرتے تھے۔آپ نے فرمایا تھا کہ اگر یہ خاتون فوت ہو جائے تو اُس وقت تک اس کو دفن نہ کرنا جب تک میں اس کی نماز جنازہ نہ پڑھ لوں۔چنانچہ وہ فوت ہوگئی۔رات کے وقت فوت ہوئی اور صحابہ اس کا جنازہ رات گئے مدینہ لائے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کوسو یا ہوا پایا۔انہوں نے آپ کو جگانا پسند نہیں کیا۔چنانچہ انہوں نے اس کی نماز جنازہ خود ہی پڑھی اور جنت البقیع میں دفن کر دیا۔جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے اس خاتون کے بارے میں دریافت فرمایا۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ اسے تو دفن کر دیا ، وہ رات فوت ہو گئی تھی۔ہم آپ کے پاس آئے تھے مگر آپ کو سوئے ہوئے پایا تو ہم نے آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا۔اس پر آپ نے فرمایا مجھے اس کی قبر پر لے چلو۔چنانچہ آپ وہاں گئے اور قبرستان میں جا کر اس کی قبر جو آپ کو دکھائی گئی تو رسول اللہ ﷺ وہاں کھڑے ہو گئے۔صحابہ آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔اور آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور اس نماز جنازہ میں چار تکبیر میں کہیں۔(سنن النسائى كتاب الجنائز باب الصلاة على الجنازة بالليل حدیث نمبر (1969