خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 84 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 84

84 خطبہ جمعہ 2 / مارچ 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم جو اس نبی ﷺ کی رافت اور رحمت کا رہتی دنیا تک مقابلہ کر سکے بلکہ اس کا عشر عشیر کیا، ہزارواں ، لاکھواں حصہ بھی دکھا سکے۔اس سراپا رحمت کا ایک واقعہ جو بظاہر معمولی لگتا ہے لیکن اپنے ایک معمولی چاکر کے لئے نرمی و رحمت کے جذبات کی ایک ایسی تصویر کھینچتا ہے جو بڑے بڑے نرم دل اور اپنے ماتحتوں کا خیال رکھنے والوں میں ہزارواں حصہ بھی نظر نہیں آ سکتا۔ایک روایت میں آتا ہے ، حضرت عبداللہ بن ابوبکر رضی اللہ عنہا ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ جنگ حنین کے روز ایک مرتبہ میری وجہ سے نبی کریم ﷺ کا راستہ تنگ ہو گیا۔اس وقت میں نے موٹے چمڑے کا جوتا پہنا ہوا تھا۔میرا پاؤں رسول اللہ ﷺ کے پاؤں پر آ گیا تو آپ نے اس کوڑے کے ساتھ جو آپ نے پکڑا ہوا تھا مجھے جلدی سے پیچھے ہٹایا اور کہا بسم اللہ تم نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔راوی کہتے ہیں میں نے وہ رات اپنے آپ کو ملامت کرتے ہوئے گزار دی۔میں اپنے دل میں بار بار سوچتا تھا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دی ہے۔جب صبح ہوئی تو ایک شخص آیا اور پوچھا کہ فلاں کہاں ہے؟ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ میں یہاں ہوں اور ان کے ساتھ چل پڑا۔آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔رسول اللہ ﷺ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا تم نے کل اپنی جوتی سے میرے پاؤں کو لتاڑ ہی دیا تھا اور تم نے مجھے تکلیف پہنچائی تھی لیکن میں نے تمہیں کوڑے کے ساتھ اپنے پاؤں سے پیچھے کیا تھا۔تو یہ جو ہلکا سا کوڑا میں نے تمہیں مارا تھا یہ اسی (80) دنبیاں ہیں، بکریاں ہیں، بھیڑیں ہیں انہیں اس کے بدلہ میں لے لو۔(السيرة الحلبية جلد 3 صفحه 473 باب ما يذكر فيه صفة الله الله الباطنة وان شاركه فيها غيره۔دار الكتب العلمية بيروت) تو دیکھیں اس رحمتہ للعالمین کا اپنے چاکروں سے کیا حسن سلوک ہے۔تکلیف بھی آپ کو پہنچی ہے۔اس تکلیف سے اپنے پاؤں کو آزاد کروانے کے لئے ہلکے سے کوڑے کے اشارے سے دوسرے کا پاؤں پیچھے ہٹایا ہے تو ساری رات آپ کے دل میں یہ خیال رہا کہ چاہے یہ ہلکا سا کوڑا ہی سہی۔میں نے یہ کیوں مارا۔اس سے اس کو تکلیف پہنچی ہوگی۔اپنی تکلیف کا کوئی احساس نہیں رہا۔جس کوکوڑا مار وہ اپنی غلطی پر شرمندہ ہے۔وہ ساری رات سونہیں سکا کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو تکلیف پہنچائی ہے۔لیکن یہ سراپا رحمت صبح اٹھ کر کہتے ہیں کہ تمہیں میرے ذریعہ سے تھوڑی سی جو تکلیف پہنچی تھی یہ اس کا بدلہ ہے۔یہ اسی (80) بھیٹریں ہیں یہ لے لو۔پھر دیکھیں آپ کی مجلس میں آنے والے ایک بدو کا رویہ جو ادب آداب سے بالکل نابلد تھا بلکہ لگتا ہے لوگ سیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ان لوگوں کو اپنے اکھڑ پن پر بہت زیادہ فخر تھا۔لیکن اس رویہ کے باوجود کیا شفقت کا سلوک تھا جو آپ نے اس سے فرمایا اور اس کی حاجت براری فرمائی۔روایت میں آتا ہے۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی معیت میں تھا۔آپ نے ایک موٹے کنارے والی چادر زیب تن کی ہوئی تھی۔ایک بدو نے اس چادر کو اتنے زور سے کھینچا کہ اس کے کناروں کے نشان آپ کی گردن پر پڑ گئے۔پھر اُس نے کہا اے محمد ! (ﷺ)