خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 49 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 49

49 خطبہ جمعہ 02 فروری 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم زیور بنالیا۔کیونکہ کھانے پینے کی جو ضروریات تھیں وہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دستر خوان سے ہی دودھ پلانے کی وجہ سے پوری ہو جاتی تھیں۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود از حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی صفحه 304-306) پھر عرفانی صاحب لکھتے ہیں قادیان میں نہال سنگھ نامی ایک بانگر و جٹ رہتا تھا۔اپنے ایام جوانی میں وہ کسی فوج میں ملازم تھا اور پینشن پاتا تھا۔اس کا گھر جناب خان بہادر مرز سلطان احمد صاحب کے دیوان خانے سے دیوار بد یوار تھا، ساتھ جڑا ہوا تھا۔یہ سلسلے کا بہت بڑا دشمن تھا اور جماعت کا دشمن بھی تھا اور اس کی تحریک سے حضرت حکیم الامت اور بعض دوسرے احمدیوں پر بہت خطرناک فوجداری جھوٹا مقدمہ دائر ہوا تھا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول اور بعض دوسرے لوگوں پر بھی اس نے جھوٹا مقدمہ درج کرایا ہوا تھا۔اور ہمیشہ وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر احمد یوں کو تنگ کیا کرتا تھا۔اور گالیاں دیتے رہنا تو اس کا معمول تھا تو عین ان ایام میں جبکہ مقدمات دائر تھے اس کے بھتیجے سنتا سنگھ کی بیوی کے لئے مشک کی ضرورت پڑی۔وہ بیار ہوگئی اور کسی دوسری جگہ سے یہاتی نہیں تھی بلکہ یہ بہت قیمتی چیز تھی۔مشک ویسے ہی بہت قیمتی ہوتی ہے اور مل بھی نہیں رہی تھی۔اور وہ اس حالت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دروازے پر گیا اور مشک کا سوال کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کے پکارنے پر فوراً ہی تشریف لے آئے اور اسے ذرا بھی انتظار میں نہ رکھا۔اس کا سوال سنتے ہی فوراً اندر تشریف لے گئے اور کہہ گئے ٹھہرو ا بھی لاتا ہوں۔چنانچہ آپ نے کوئی نصف تولہ کے قریب جتنی دوائی کے لئے ضرورت تھی مشک لا کر اس کے حوالے کر دی۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود از حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی صفحه 306) تو یہاں دیکھیں قطع نظر اس کے کہ جس کو ضرورت ہے وہ کون ہے۔دشمنی کرتا ہے یا نہیں کرتا۔یہ اس کا اپنا فعل ہے۔ایک مریضہ کی جان بچانے کے لئے ایک دوائی کی ضرورت ہے تو فوراً جذ بہ رحم کے تحت دوائی لا کر اس کو دے دی۔یہاں بدلے لینے کا یا مقد مے ختم کرانے کا سوال نہیں اٹھایا۔پھر حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی بیان کرتے ہیں کہ حافظ نور احمد صاحب سوداگر پشمینہ لودھیانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے اور مخلص خدام میں سے ہیں۔ان کو اپنے تجارتی کاروبار میں ایک بار سخت خسارہ ہو گیا اور کاروبار تقریبا بند ہی ہو گیا۔انہوں نے چاہا کہ وہ کسی طرح کسی دوسری جگہ چلے جاویں اور کوئی اور کاروبار کریں تا کہ اپنی مالی حالت کی اصلاح کے قابل ہو سکیں۔وہ اس وقت کے گئے ہوئے گویا اب واپس آ سکے ہیں۔جس زمانے میں گئے تھے جب یہ لکھ رہے ہیں کہتے ہیں اب آئے ہیں بڑے سالوں بعد۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں برابر خط و کتابت رکھتے تھے اور سلسلے کی مالی خدمت اپنی طاقت اور توفیق سے بڑھ کر کرتے رہے۔جب عرفانی صاحب نے یہ لکھا ان دنوں قادیان میں مقیم تھے۔وہ کہتے ہیں ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی داد و دہش اور جو دوسخا کے متعلق میں تو ایک ہی بات کہتا ہوں کہ آپ تھوڑا دینا جانتے ہی نہ تھے۔