خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 48 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 48

خطبات مسرور جلد پنجم 48 خطبہ جمعہ 02 فروری 2007ء دیتے اور یہ میرے ساتھ معاملہ نہ تھا بلکہ اکثروں کو دیتے رہتے تھے۔شام اور عرب سے بھی بعض لوگ آتے اور آپ ان کو بعض اوقات بیش قرار رقوم زادراہ کے طور پر دیتے۔کیونکہ حضور جانتے تھے کہ وہ دور دراز سے آئے ہیں۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود از حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی صفحه 319) صرف قریب سے آنے والوں کے لئے نہیں۔پھر عرفانی صاحب لکھتے ہیں۔آپ کی عام عادت تھی کہ جو کچھ کسی کو دیتے تھے وہ کسی نمائش کے لئے نہ ہوتا تھا۔بلکہ محض خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے اور شفقت علی خلق اللہ کے نکتہ خیال سے اور اس لئے آپ عام طور پر نہایت مخفی طریقوں سے عطا فرماتے تھے اور کبھی دوسروں کو تحریک کرنے کے لئے اور عملی سبق دینے کے واسطے اعلانیہ بھی کرتے تھے ، خدا تعالیٰ کا حکم دونوں طرح ہے۔تو مخفی طور پر عطا کرنے میں آپ کا ایک یہ بھی طریق تھا کہ بعض اوقات ایسے طور پر دیتے تھے کہ خود لینے والے کو بھی بمشکل علم ہوتا تھا۔کہتے ہیں اس واقعہ کے سلسلہ میں ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔منشی محمد نصیب صاحب ایک یتیم کی حیثیت سے قادیان آئے تھے۔حضرت اقدس کے رحم و کرم سے انہوں نے قادیان میں رہ کر تعلیم پائی۔ان کے اخراجات اور ضروریات کا سارا بارسلسلہ پر تھا۔جب وہ جوان ہو گئے اور انہوں نے شادی کر لی۔وہ لاہور کے ایک اخبار کے دفتر میں محرر ہوئے۔پھر دفتر بدر قادیان میں آکر 12 روپے ماہوار پر ملازم ہوئے۔تو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کو جب اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلا بیٹا نصیر احمد عطا فرمایا ( جو کچھ عرصے بعد فوت ہو گئے تھے ) تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مرحوم نصیر احمد کے لئے ایک آنا کی ضرورت پیش آئی (ایسی عورت جو دائی کے طور پر رکھی جاتی تھی ) تو کہتے ہیں کہ میں نے شیخ محمد نصیب صاحب کو تحریک کی کہ ایسے موقع پر تم اپنی بیوی کی خدمات پیش کر دو۔ہم خرماد ہم ثواب کا موقع ہے۔یعنی کھانا پینا اکٹھا ہو جائے گا تو ملنا ہی ہے ایک گھر میں رہو گے۔تو میرے مشورے کو شیخ صاحب نے قدر و عزت کی نظر سے دیکھا۔اور ان کو یہ موقع مل گیا اور ان کی بیوی صاحبزادہ نصیر احمد صاحب کو دُودھ پلانے پر مامور ہو گئیں۔تو اس سلسلے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے باتوں باتوں میں ہی دریافت فرمایا کہ شیخ محمد نصیب کو کیا تنخواہ ملتی ہے؟ جب آپ کو معلوم ہوا کہ صرف 12 روپے ملتے ہیں تو آپ نے محسوس فرمایا کہ اس قدر قلیل تنخواہ میں شاید گزارا نہ ہوتا ہو۔حالانکہ اس زمانے میں وہ بہت تھی۔لکھتے ہیں کہ ارزانی کے ایام تھے بڑا سستا زمانہ تھا۔لیکن حضرت اقدس کو یہ احساس ہوا اور آپ نے ایک روز گزرتے گزرتے ان کے کمرے میں 20-25 روپے کی ایک پوٹلی پھینک دی۔شیخ صاحب کو خیال گزرا کہ معلوم نہیں یہ روپیہ کہاں سے آیا ہے، کیسا ہے؟ آخر انہوں نے بڑی کوشش کی تحقیق کی تو پتہ لگا کہ حضرت اقدس نے ان کی تنگی کا احساس کر کے اس طرح وہاں رکھ دیا تھا تا کہ تکلیف نہ ہو اور آرام سے گزارا کر لیں۔تو عرفانی صاحب لکھتے ہیں کہ ان کو تو ضرورت نہیں تھی اس روپیہ سے شاید بیوی نے