خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 50
50 خطبہ جمعہ 02 فروری 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم اپنا ذاتی واقعہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے جب اس سفر کا ارادہ کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کچھ روپیہ مانگا۔حضور ایک صندوقچی جس میں روپیہ رکھا کرتے تھے اٹھا کر لے آئے اور میرے سامنے صندوقچی رکھ دی کہ جتنا چاہو لے لو اور حضور کو اس بات سے بہت خوشی تھی۔میں نے اپنی ضرورت کے موافق لے لیا۔جتنی ضرورت تھی اس صندوق میں سے نکال کے اتنا لے لیا گو کہ حضور یہی فرماتے رہے کہ سا راہی لے لو۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود علیه السلام از حضرت یعقوب علی عرفانی صفحه 317-316 حضرت مولوی عبدالکریم صاحب لکھتے ہیں کہ بعض وقت دوائیاں لینے کے لئے گنوار عورتیں زور زور سے دروازے پر دستک دیتی تھیں۔اور سادہ اور گنواری زبان میں کہتی تھیں کہ مر جاجی ذرائو کھولو۔حضور اس طرح اٹھتے جس طرح مطاع ذیشان کا حکم آیا ہے، یعنی بڑا کوئی حاکم باہر کھڑا ہے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔فوراً اٹھ کر دروازہ کھولتے اور بڑی کشادہ پیشانی سے بڑی خوشدلی سے باتیں کرتے اور دوائی بتاتے۔تو مولوی عبد الکریم صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں وقت کی قدر پڑھی ہوئی جماعت کو بھی نہیں تو پھر گنوار تو اور بھی وقت کے ضائع کرنے والے ہوتے ہیں۔ویسے ابھی تک یہ حال ہے۔ایک عورت بے معنی بات چیت کرنے لگ گئی ہے اور اپنے گھر کا رونا اور ساس نند کا گلہ شروع کر دیا ہے۔گھنٹہ بھر اسی میں ضائع کر دیا ہے۔آئی دوائی لینے اور ساتھ قصے شروع کر دیئے اور آپ وقار اور تحمل سے بیٹھے سن رہے ہیں۔زبان سے یا اشارے سے اس کو کہتے نہیں کہ بس جاؤ دوا پوچھ لی اب کیا کام ہے ہمارا وقت ضائع ہوتا ہے۔وہ خود ہی گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوتی اور مکان کو اپنی ہوا سے پاک کرتی۔ایک دفعہ بہت سی گنوار عورتیں اپنے بچوں کو دکھانے لے کر آئیں، اتنے میں اندر سے بھی چند خدمتگار عورتیں شربت شیرہ کے لئے برتن ہاتھوں میں لئے آ نکلیں اور آپ کو دینی ضرورت کے لئے بڑا اہم مضمون لکھنا تھا اور جلد لکھنا تھا۔میں بھی اتفاقاً جا نکلا۔کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت کمر بستہ اور مستعد کھڑے ہیں جیسے یورپین اپنی دنیاوی ڈیوٹی پر چست اور ہوشیار کھڑا ہوتا ہے اور پانچ چھ صندوق کھول رکھے ہیں اور چھوٹی چھوٹی شیشیوں اور بوتلوں میں سے کسی کو کچھ اور کسی کو کوئی عرق دے رہے ہیں۔کوئی تین گھنٹے تک یہی بازار لگا رہا۔اور ہسپتال جاری رہا۔فراغت کے بعد میں نے عرض کیا کہ حضور یہ تو بڑی زحمت کا کام ہے اور اس طرح بہت سا قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے۔اللہ اللہ کس نشاط اور طمانیت سے مجھے جواب دیتے ہیں کہ یہ بھی تو ویسا ہی دینی کام ہے۔یہ مسکین لوگ ہیں کوئی ہسپتال نہیں، میں ان لوگوں کی خاطر ہر طرح کی انگریزی اور یونانی دوائیں منگوا رکھا کرتا ہوں جو وقت پر کام آ جاتی ہیں اور فرمایا یہ بڑا ثواب کا کام ہے۔اب تین گھنٹے ان عورتوں کے لئے ضائع ہو گئے اور اس وقت ایک کتاب لکھ رہے تھے اور بڑی جلدی لکھنی تھی۔اس کے باوجود اس کام کو چھوڑ دیا اور ان کی خدمت میں لگے رہے۔فرماتے ہیں یہ بڑے ثواب کا کام ہے۔مومن کو ان کاموں میں سست اور بے پرواہ نہ ہونا چاہئے۔میں نے بچوں کا ذکر کیا