خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 505
خطبات مسر در جلد پنجم 505 خطبہ جمعہ 14 دسمبر 2007ء جانے لگیں۔رسول کریم ﷺ دروازے تک چھوڑنے گئے۔جب آپ مسجد کے دروازے تک پہنچیں جو حضرت اُم سلمہ کے حجرہ کے ساتھ تھا تو انصار میں سے دو شخص ان دونوں کے پاس سے گزرے اور رسول اللہ ﷺ کو سلام کر کے تیزی سے چل پڑے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ٹھہرو۔یہ صفیہ بنت کی ہے۔ان دونوں نے کہا سبحان اللہ یا رسول اللہ ! اور یہ بات ان دونوں کو گراں گزری۔آپ نے فرمایا: یقیناً شیطان انسان کے جسم میں خون کے دوڑنے کی طرح دوڑتا ہے اور میں ڈرا کہ وہ تمہارے دلوں میں بدگمانی نہ ڈالے۔(صحيح بخارى كتاب الادب، باب التكبير والتسبيح عند التعجب حديث : 6219) | اب دیکھیں بدظنی سے بچانے کے لئے آپ نے فوری طور پر یہ پر حکمت فیصلہ فرمایا۔یہ سبق ہے کہ دوسرے کو کسی بھی قسم کی ٹھوکر لگنے سے بچانے کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔اگر کوئی اتنا ہی بدقسمت ہے کہ جس نے بدظنیوں پر اڑے رہنا ہے تو اور بات ہے ورنہ ہر ایک کو دوسرے کو بچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔خاص طور پر عہدیداران کو بھی اس طرف توجہ دینی چاہئے کسی بھی صورت میں کوئی ایسی حرکت نہ ہو جو کسی کی ٹھوکر کا باعث بنے۔ضروری نہیں کہ بڑے بڑے معاملات ٹھوکر کا باعث بنتے ہیں بعض دفعہ بڑی معمولی باتیں دوسرے کی ٹھوکر کا باعث بن جاتی ہیں تو ایسی صورت میں وضاحت کر کے شکوک کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ دوسراٹھوکر سے بچے اور اپنے ایمان کو ضائع ہونے سے بچائے۔اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ دوسرے گھروں میں اجازت لے کر داخل ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا (النور: 28) یعنی اپنے گھروں کے سوا کسی دوسرے کے گھر میں بغیر اجازت اور سلام کے داخل نہ ہو۔یہ بڑا پر حکمت اور اعلیٰ اخلاق کی طرف توجہ دلانے والا حکم ہے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضور ﷺ کے حجرے کے سوراخ میں سے اندر جھانکا جبکہ نبی کریم کنکھی سے سر کھارہے تھے یا کنگھی کر رہے تھے۔تو آپ نے فرمایا اگر مجھے معلوم ہو جاتا کہ تو جھانک رہا ہے تو میں یہ کنگھی تیری آنکھ میں چھوتا۔پھر فرمایا دیکھنے کی وجہ سے ہی گھر میں اجازت لے کر داخل ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔(صحیح بخارى كتاب الديات۔باب من اطلع في بيت قوم ففقئوا ح ا حدیث : 6901) تو آنحضرت کو یہ برداشت نہیں تھا کہ جن اعلیٰ اخلاق کو قائم کرنے کے لئے آپ آئے ہیں اور جس پر حکمت تعلیم کو پھیلانے کے لئے آپ آئے ہیں کوئی اس سے ذرا بھی پرے ہٹنے والا ہو۔آپ نے بڑی سختی سے اُس جھانکنے والے کا نوٹس لیا اور اُسے بڑے سخت الفاظ میں تنبیہ فرمائی کہ اگر مجھے پتہ لگ جاتا تو میں یہ کنگھی تیری آنکھ میں چبھو دیتا۔