خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 506 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 506

506 خطبہ جمعہ 14 دسمبر 2007ء خطبات مسر در جلد پنجم پھر ایک حکم ہے اللہ تعالیٰ کا کہ مومن اس پر تو کل کریں۔لیکن بعض اس کو غلط سمجھتے ہیں اور جو اسباب اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے ہیں ان کا استعمال نہیں کرتے اور اسی طرح آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک دفعہ ہوا کہ اسباب کے استعمال نہ کرنے کے بارے میں پوچھا۔کیونکہ یہ حکمت سے عاری بات ہے۔اسباب بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے ہوئے ہیں اس لئے ان کا استعمال ضروری ہے۔تو ایسے پوچھنے والے ایک شخص نے جب حضرت رسول کریم ﷺ سے یہ سوال پوچھا کہ کیا میں اونٹ کا گھٹنا باندھ کے خدا پر توکل کروں یا اونٹ کو کھلا چھوڑ دوں اور خدا پر توکل کروں تو حضرت رسول کریم ﷺ نے فرمایا أَعْقِلُهَا وَتَوَكَّلُ۔اونٹ کا گھٹنا باندھو اور توکل کرو۔(سنن الترمذى كتاب صفة القيامة والرقائق باب 60 حدیث 2517) | پھر قومی معاملات میں آپ کے پر حکمت فیصلے تھے۔غزوہ اُحد میں سب جانتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے ایک پر حکمت فیصلہ کو نہ ماننے کی وجہ سے مسلمانوں کو نقصان پہنچا اور خود آنحضرت ﷺ کی ذات کو بھی جسمانی نقصان پہنچا، زخم آئے ، دانت شہید ہوا۔مسلمانوں کی جنگ کے بعد جو حالت تھی گو کہ اس کو شکست تو نہیں کہنا چاہئے لیکن فتح حاصل کرتے کرتے پانسہ پلٹ گیا تھا۔بہر حال جب جنگ ختم ہوئی تو مسلمانوں کا زخموں اور تھکن کی وجہ سے بہت برا حال تھا تو ” غزوہ اُحد کے اگلے دن جب کہ رسول کریم ﷺ اپنے صحابہ کے ہمراہ مدینہ پہنچ چکے تھے تو رسول کریم ﷺ کو یہ اطلاع ملی کہ کفار مکہ دوبارہ مدینہ پر حملہ آور ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔کیونکہ بعض قریش ایک دوسرے کو یہ طعنے دے رہے تھے کہ نہ تو تم نے محمد (ﷺ) کو قتل کیا ( نعوذ باللہ ) اور نہ مسلمان عورتوں کو لونڈیاں بنایا اور نہ ان کے مال و متاع پر قبضہ کیا۔اس پر رسول کریم ﷺ نے ان کے تعاقب کا فیصلہ فرمایا۔حضور ﷺ نے اس بات کا اعلان کروایا کہ ہم دشمن کا تعاقب کریں گے اور اس تعاقب کے لئے میرے ساتھ صرف وہ صحابہ شامل ہوں گے جو گزشتہ روز غزوہ اُحد میں شامل ہوئے تھے۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد دوم صفحه 274 غزوه رسول الله صلى الله عليه وسلم حمراء الاسد) یہ آپ کا ایک پر حکمت فیصلہ تھا کہ مسلمانوں کا حوصلہ بلند رہے۔وہ لوگ جو جنگ سے آئے ہیں، تقریب ہاری ہوئی صورت حال تھی ، وہ مایوس نہ ہو جائیں کہیں۔ان کے حوصلے بھی بلند ر ہیں اور دشمن پر رعب بھی پڑے کہ یہ نہ سمجھو کہ تم فتح حاصل کر کے گئے ہو بلکہ یہ تو معمولی سا پانسہ پلٹ گیا تھا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔جب یہ تعاقب میں گئے تو دشمن کو جرات نہ ہوئی کہ واپس مڑیں اور حملہ کریں۔وہ چلے گئے۔اللہ تعالیٰ نے کیونکہ آپ کو تمام دنیا کی راہنمائی اور حکمت کے لئے مبعوث فرمانا تھا۔اس لئے آپ کو زمانہ نبوت سے پہلے ہی پر حکمت تعلیم پھیلانے کے لئے حکیم خدا نے تیار کر لیا تھا اور آپ کے فیصلے نبوت سے پہلے بھی ایسے تھے جن کو لوگ پسند کرتے تھے۔ان میں سے ایک واقعہ جو تعمیر کعبہ کا واقعہ ہے اس کا ذکر آتا ہے کہ حجر اسود کی