خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 504 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 504

504 خطبہ جمعہ 14 /دسمبر 2007ء خطبات مسر در جلد پنجم حکمت کے ایک معنی علم بھی ہیں کیونکہ علم دماغ روشن کرنے کا باعث بنتا ہے۔جہالت کو ختم کرتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے اس حکمت کے پیش نظر یہ حکم دیا تھا کہ دماغ روشن ہوں گے تو بہترین طریق پر اسلام کا پیغام آگے پہنچا سکیں گے۔اگر آپ ﷺ کے ذہن میں یہ بات ہوتی جس کا آج کل آپ ﷺ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ نعوذ باللہ آپ تلوار کے زور پر ساری دنیا کو زیرنگیں کرنا چاہتے تھے تو یہ حکم پھر آپ کبھی نہ دیتے کہ جو اتنے بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دے گا اس کو آزادی مل جائے گی۔بلکہ اس کی جگہ یہ ہوتا کہ اگر جرمانہ دے کر رہائی نہیں پاسکتے تھے تو اگر کوئی قیدی لڑائی کا خاص قسم کا ہنر اور فن جانتا ہے تو وہ سکھائے گا تو رہائی ہوگی۔لیکن آپ نے تو علم وحکمت کی طرف اپنی امت کو توجہ دلائی۔پس ہمیں یادرکھنا چاہئے کہ آج ہمارے غالب آنے کے ذرائع بھی علم و حکمت ہی ہیں۔تبلیغ کے لئے ایسے ذرائع استعمال کئے جائیں جو حکمت سے پُر ہوں۔اس لئے علم سیکھنے کی طرف بھی ضرور توجہ ہونی چاہئے۔اس بارے میں خدا تعالیٰ نے ہمیں قرآن میں بھی حکم فرمایا ہے جیسا کہ فرماتا ہے۔اُدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمُ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ (النحل : 126)۔اپنے رب کی طرف حکمت کے ساتھ اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دے اور ان سے ایسی دلیل کے ساتھ بحث کر جو بہترین ہو۔یقینا تیرا رب ہی اسے جو اس کے راستے سے بھٹک چکا ہو سب سے زیادہ جانتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کا بھی سب سے زیادہ علم رکھتا ہے۔پس یہ حکم ہے تبلیغ کرنے والوں کو کہ موقع محل کے لحاظ سے حکمت سے بات کرو۔دوسرے کے بارے میں بھی صحیح علم ہوتا کہ صحیح دلیل کے ساتھ جواب دے سکو اور صرف خشک دلیلوں اور کج بحثی میں نہ پڑو۔مومن کو حکمت اور فراست ہوتی ہے اور علم کے ساتھ یہ بڑھتی ہے۔اگر ڈھٹائی نظر آئے دوسرے فریق میں تو جیسے کہ پہلے بھی میں نے کہا تھا، حکمت یہی ہے کہ پھر ایسی مجلس سے اٹھ جاؤ اور اللہ تعالی کا حکم بھی یہی ہے یا بحث ختم کر دو جب تک کہ دوسرا فریق دلیل اور حکمت سے بات کرنے پر تیار نہ ہو اور یہی طریق عموماً تبلیغ میں دوسرے کے دل کو نرم کرنے اور بات سنے کا ذریعہ بنتا ہے اور بنے گا۔باقی یہ کہ ہدایت کسی کے حصہ میں آتی ہے کہ نہیں یہ اللہ تعالیٰ کو ہی پتہ ہے۔ہمارا کام حکمت سے پیغام پہنچاتے چلے جانا ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے جسے ہم مختلف مضامین کے ساتھ کئی دفعہ پڑھ چکے ہیں بن چکے ہیں۔علی بن حسین سے روایت ہے کہ حضرت صفیہ زوجہ مطہرہ رسول کریم ﷺ نے بتایا کہ ایک دفعہ وہ آنحضرت ﷺ کو ملنے گئیں جبکہ آپ مسجد میں رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے۔رات کے وقت کچھ دیر باتیں کیں اور پھر وہ واپس