خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 503 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 503

خطبات مسرور جلد پنجم 503 خطبہ جمعہ 14 دسمبر 2007ء دوسروں کو سکھاتا ہے۔(صحیح بخاری کتاب الاحكام باب اجر من قضى بالحكمة حديث (7141 اس میں مومنوں کے ذمے یہ کام بھی کر دیا کہ حکمت کو آگے بھی پھیلا ؤ۔حاصل بھی کرو اور پھر آگے پھیلاؤ تمہارے تک محدود نہ رہ جائے۔اگر کوئی پُر حکمت اور علم کی بات ہے تو مومن کی شان یہی ہے کہ اسے آگے پھیلاتا چلا جائے تا کہ حکمت و فراست قائم کرنے والا معاشرہ قائم ہو۔ایسی مجالس جن میں حکمت کی باتیں ہوتی ہوں آنحضرت ﷺ نے اُنہیں نِعْمَ الْمَجْلِس کا نام دیا ہے۔عون بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود) نے کہا کہ کیا ہی عمدہ وہ مجلس ہے کہ جس میں حکمت والی باتیں پھیلائی جاتی ہیں۔یہ براہ راست آنحضرت ﷺ کی طرف تو روایت نہیں ہے۔لیکن یہ انہوں نے سنا اور فرمایا کہ کیا ہی عمدہ مجلس ہے جس میں حکمت کی باتیں پھیلائی جائیں اور جس میں رحمت کی امید کی جاتی ہے۔(سنن الدارمي۔باب من هاب الفتيا مخافة السقط حديث : 292) تو یہ ہماری مجالس کے معیار ہونے چاہئیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم بھی یہی ہے کہ لغو مجالس سے اٹھ جاؤ۔ایسی مجالس سے بھی اٹھ جاؤ جہاں دین کے خلاف باتیں ہو رہی ہوں۔مذہب پر منفی تبصرے ہو رہے ہوں۔خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق فضول باتیں ہو رہی ہوں۔اگر تمہارے علم میں ہے تو سمجھانے کے لئے اور اس لئے کہ کچھ لوگوں کا بھلا ہو جائے اور یا جو کوئی بھی صاحب علم ہیں وہ ایسے لوگوں کو سمجھانے کے لئے اگر ایسی مجلس میں بیٹھ جاتے ہیں تو ٹھیک ہے لیکن اگر دیکھیں کہ یہ لوگ صرف ڈھٹائی سے کام لے رہے ہیں، سمجھنا نہیں چاہتے تو پھر ایسی مجلس سے اٹھ جانے کا اللہ تعالی کا بھی حکم ہے۔کیونکہ پھر فرشتے ایسی مجلسوں پر لعنت بھیجتے ہیں۔اور ایک مومن کو تو ایسی مجلس کی تلاش ہونی چاہئے جس میں حکمت کی باتیں ہوں۔حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ میرے لئے رسول اللہ ﷺ نے دومرتبہ یہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکمت عطا کرے۔(سنن الترمذى۔كتاب المناقب باب مناقب عبدالله بن عباس حدیث: 3823) آپ کے نزدیک اس کی اتنی اہمیت تھی۔یہ اتنا بڑا تحفہ تھا کہ آپ نے دعادی۔پھر علم اور حکمت کے بارے میں آنحضرت ﷺ کا ایک اور انداز جس کا جنگی قیدیوں کے سلسلہ میں روایت میں ذکر آتا ہے، یہ ہے کہ حضور ﷺ نے ان قیدیوں کو جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے انہیں اختیار دیا کہ اگر وہ انصار کے دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں تو آزاد ہوں گے۔چنانچہ بچے جب لکھنے پڑھنے کے قابل ہو جاتے تھے تو ان قیدیوں کو جو جنگی قیدی تھے ، آزاد کر دیا جاتا تھا۔یہ اہمیت تھی آپ کی نظر میں علم کی۔طبقات لابن سعد جلد 2 صفحه 260