خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 496 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 496

496 خطبہ جمعہ 07 دسمبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم آیت پڑھتے ہیں پھر سمجھتے نہیں اور یہی سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک کہہ رہے ہیں۔اس بات کو ماننے سے انکاری ہیں کہ ہر زمانے میں خیر کو پھیلانے کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے چنیدہ بندے بھیجتا ہے اور اس زمانہ میں اس نے اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا ہے تو اس پر کیا اعتراض ہے۔جو لوگ اعتراض کرتے ہیں تو پھر یہ بالواسطہ خدا تعالیٰ کی انسانی پیدائش کی غرض پر اعتراض ہے۔پس سوچنے والوں کے لئے یہ سوچنے کا مقام ہے۔پھر آپ نے ایک نکتہ یہ بیان فرمایا کہ جب فرشتوں نے عرض کی لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا تو اس کا صرف اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ ہمیں اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھایا بلکہ اس کی گہرائی میں دیکھیں تو یہ مطلب ہے کہ فرشتوں نے یہ اعتراف کیا کہ ہمارا علم اس طرح نہیں بڑھتا جس طرح انسان کا بڑھتا ہے اور اُسے یعنی انسان کو اسے بڑھانے کی مقدرت بھی حاصل ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کو طاقت اور قدرت دی ہے۔اور پھر فرشتوں نے اس بات سے یہ اعتراف کیا کہ ہمارے اندر وہی ایک قسم کی طاقتیں ہیں جو تُو نے ہمارے اندر رکھی ہیں اور ان طاقتوں کے ساتھ ہم انسان کے متنوع اور جامع علوم کو نہیں پہنچ سکتے۔یعنی فرشتوں کا اقرار ہے کہ ہم سمجھ گئے ہیں کہ انسان کی پیدائش میں حکمت ہے اور انسان کے سپر دایسا کام ہے جو ہم نہیں کر سکتے۔اگر بعض انسان صرف شتر پھیلانے والے ہیں تو اس پیدائش کی حکمت کا رد اس وجہ سے نہیں کیا جاسکتا۔پھر اس متنوع قسم کے کاموں کے ساتھ جو تسبیح اور تحمید کرنے والے ہیں وہ اس میں فرشتوں سے بھی بڑھ جاتے ہیں۔(ملخص از تفسیر کبیر جلد 1 صفحه 322-321) شیخ اسماعیل تھی لکھتے ہیں کہ الْحِكْمَة وہ معارف حقہ اور احکام شریعہ ہیں جن کے ذریعہ نفوس کی تکمیل ہوتی ہے، الحکیم جو حکمت و مصلحت کے تقاضے کے مطابق کام کرے۔بزرگ و برتر اشیاء کی معرفت اعلیٰ ترین علم کے ذریعہ حاصل کرنے کو حکمت کہتے ہیں اور تمام اشیاء میں سے معزز ترین اور بالاترین خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔اس کے سوا کوئی دوسرا اس کی معرفت کی کنہ کو نہیں جانتا۔پس اللہ تعالیٰ حکیم ہے اس وجہ سے کہ وہ بالا اور معزز ترین اشیاء کو بلند ترین علم کے ذریعہ سے جانتا ہے۔کیونکہ عظیم ترین علم وہ ازلی دائمی علم ہے جس کا زوال متصور نہ ہو، کوئی تصور نہ نہ کر سکے اور وہ علم اس چیز کے حالات سے، جس کے متعلق وہ علم ہے، ایسی کامل مطابقت رکھتا ہے کہ اس میں ذرہ بھر بھی اختفاء یا شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ، کوئی مشتبہ نہیں اور یہ وصف صرف اللہ تعالیٰ کو ہی حاصل ہے۔ہاں بسا اوقات ایسے شخص کو بھی حکیم کہا جاتا ہے جو کسی چیز کی صنعت کاری کی بار یک در بار یک تفصیلات کا علم رکھتا ہو اور اس چیز کو کمال عمدگی سے بناتا ہو۔اور اس پہلو سے بھی تمام کمال صرف اللہ تعالیٰ کو ہی حاصل ہے کیونکہ وہی حکیم مطلق ہے۔اور جو شخص تمام اشیاء کی معرفت رکھتا ہوگا اللہ کا عرفان نہ رکھتا ہو وہ حکیم کہلانے کامستحق نہیں ہوسکتا۔کیونکہ اسے عظیم اور بزرگ ترین چیز یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل نہیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا تھا۔