خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 497 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 497

خطبات مسرور جلد پنجم 497 خطبہ جمعہ 07 دسمبر 2007ء کہ دنیاوی چیزوں میں ترقی بھی بڑی کر لی لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کا راستہ بند ہے اس لحاظ سے وہ حکمت سے عاری ہیں۔با وجود تمام دنیاوی ترقیوں کے اس تعریف کی رو سے ان کو حکیم نہیں کہا جا سکتا۔پھر کہتے ہیں کہ حکمت تمام علوم میں سے سب سے زیادہ شرف رکھنے والا علم ہے اور کسی علم کی جلالت شان معلوم (یعنی جس چیز کا علم حاصل کیا جائے اس کی شان، بزرگی اس کا جلال ہے) کی جلالت شان کے مطابق ہوتی ہے کسی علم کی جو بڑائی ہے ، اس کی جوشان ہے وہ جس کے بارے میں علم حاصل کیا جائے اس کی شان کے مطابق ہوتی ہے۔" اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر تو کوئی صاحب شرف نہیں ہو سکتا۔اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل کرلے وہ حکیم ہے اگر چہ دیگر رسمی علوم میں وہ کمزور ہی ہو۔اس کی زبان بہت روانی سے نہ چلتی ہو۔اس کا بیان بظاہر بہت زور دار نہ بھی ہو۔ہاں بندے کی حکمت کی اللہ تعالیٰ کی حکمت سے نسبت ایسی ہی ہے جیسے بندے کو حاصل اللہ کی معرفت کی خود اللہ تعالیٰ کو اپنی ذات کی معرفت سے نسبت ہے۔یعنی حکمت کا بھی وہی معیار ہے جس طرح کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت بڑی وسیع ہے۔اللہ تعالیٰ کو اپنی ذات کے بارے میں جو معرفت ہے، جو علم ہے اتنا بندے کو تو نہیں ہوسکتا۔پس جتنا بندے کا معیار اس علم کے حاصل کرنے کے بارے میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں ہے۔اور جوعلم اللہ تعالیٰ کو اپنی ذات کے بارے میں ہے ان کے درمیان جو فرق ہے وہی انسان کی اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کے درمیان فرق ہے۔آگے پھر کہتے ہیں کہ لیکن اگر چہ بندے کی حاصل حکمت کو اللہ کی حکمت سے بہت دُور کی نسبت ہے لیکن پھر بھی یہ بندے کو حاصل ہونے والی حکمت تمام معرفتوں میں سے نفیس ترین اور اپنی خوبی کے اعتبار سے کثیر ترین ہے اور جسے حکمت عطا کر دی جائے تو یقیناً اسے خیر کثیر عطا کر دی گئی اور نصیحت تو صرف عنظمند ہی حاصل کرتے ہیں۔یہ ایک آیت کی تشریح ہے جومیں نے پڑھی۔پھر کہتے ہیں کہ ہاں یہ بات درست ہے کہ جسے پھر اللہ کی معرفت حاصل ہو جائے اس کا کلام اس کے غیر سے مختلف ہوتا ہے۔کیونکہ ایسا شخص چیزوں کی جزئیات میں کم ہی جاتا ہے بلکہ اس کا کلام اجمالی ہوتا ہے نیز وہ عارضی اور دنیاوی مصالح کی بجائے اُن امور کی طرف توجہ کرتا ہے جو عاقبت میں نفع بخش ہوتے ہیں اور جبکہ اس کے کلمات کلیہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے طفیل لوگوں کے نزدیک بھی واضح ترین ہوتے ہیں اس لئے بسا اوقات لوگ اس کے کلام کے لئے حکمت کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور اس قسم کا کلام کرنے والے شخص کے لئے حکیم کا لفظ بولتے ہیں اور یہ ویسا ہی مضمون ہے جیسا کہ حضرت سید الانبیاء ﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ راسُ الحِكْمَةِ مَخَافَةُ الله یعنی اللہ کا خوف ہی اصل حکمت ہے۔تقویٰ ہی اصل حکمت ہے۔حضرت ابن عباس کے نزدیک حکیم وہ ہے جو مجرموں کا مواخذہ کرتے ہوئے حکمت کے تقاضوں کو ترک نہیں کرتا۔اس کی تشریح کر رہے ہیں کہ فَانُ زَلَلْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَ تَكُمُ الْبَيِّنْتُ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ