خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 495
495 خطبہ جمعہ 07 دسمبر 2007ء خطبات مسر در جلد پنجم ہوگا اور فرشتوں نے بھی جو یہ کہا تھا اپنے علم کے مطابق غلط نہیں کہا تھا۔آج دیکھ لیں دنیا میں فساد اور خونریزی بھی بڑھتی چلی جارہی ہے۔دنیا اس سے بھری پڑی ہے تو اس کا نعوذ باللہ یہ مطلب بھی نہیں کہ فرشتوں کا علم خدا تعالیٰ سے زیادہ تھا۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو یہ بتایا کہ میں جو خلیفہ بنانے لگا ہوں ، یہ وجہ فساد نہیں ہوں گے اور فرشتوں نے فورا سمجھ لیا۔اس لئے انہوں نے کہا کہ اے اللہ تو یقینا علیم اور حکیم ہے ، ہم اب سمجھ گئے ہیں کہ ابن آدم جو خونریزی کریں گے، جو فساد ہوگا اس کی ذمہ داری آدم پر نہیں ہوگی بلکہ اس کی وجہ بیرونی دشمنی یا اندرونی کمزوری ہوگی۔وہ وجود ہوں گے جو اندرونی طور پر کمزور ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کے خلیفہ نے تو نیکیوں اور اعمال صالحہ کی تلقین کی لیکن بیرونی دشمنوں نے اس وجہ سے فساد پھیلایا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے اور اندرونی طور پر بعض نے عمل نہ کیا جس کی وجہ سے کمزوریاں بڑھتی گئیں اور فساد پھیلتا گیا۔تمام انبیاء کی امتوں کو بعد میں ایسے ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔پس اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو یہ بتایا اور فرشتے اس بات کو سمجھ گئے کہ آدم کی خلافت کے نتیجے میں خونریزی اور فساد تو ہو سکتے ہیں اور ہوں گے لیکن ایسے وجودوں کا ظہور بھی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی متعدد صفات کے حامل ہوں گے اور خدا تعالیٰ کے مظہر ہوں گے۔سو اللہ تعالیٰ نے اس کے مطابق آدم کو صفات الہیہ کی تعلیم دی اور آدم نے اس پر عمل کر کے بتادیا کہ صفات الہیہ کا کامل ظہور بغیر ایسے معبود کے جس میں خیر اور شتر کی طاقتیں رکھی ہوں نہیں ہو سکتا۔پھر وہ دونوں میں سے ایک کو اختیار کرے اور خیر کی طاقتوں کو محبت الہی کے جذبے سے سرشار ہو کر خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے اختیار کرے۔فرشتوں میں تو یہ طاقتیں نہیں ہیں انہوں نے تو وہی کرنا ہے جس کا حکم ہے۔اس لئے کسی شاعر نے کہا ہے۔فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ پس جیسا کہ پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک اقتباس میں بھی ہم دیکھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم کو سمجھنے کے لئے خیر اور تقویٰ شرط ہے اور جب یہ ہوگا تو اللہ تعالیٰ کی صفات بھی انسان اپنے اندر پیدا کر سکتا ہے۔اور سب سے بڑھ کر یہ صفات حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنے اندر پیدا کیں اور انسان کامل کہلائے۔پس فرشتوں نے آدم کی پیدائش پر بھی یہ اقرار کیا اور ہرنبی کی پیدائش پر بھی یہ اقرار کرتے ہیں کہ ان کا علم محدود ہے اور انسان کا اُن کے مقابل پر علم لامحدود ہے اور اس بات سے انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ الہ تعالیٰ الْعَلِیم اور الْحَكِيم ہے۔حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس ضمن میں ایک یہ نکتہ بھی بیان فرمایا ہے کہ آدم کے واقعہ کی تفصیل بیان کرنے سے پیدائش عالم کی غرض اور حکمت بتانا مقصود ہے کہ ہر زمانے میں الہام الہی کا ظہور اس غرض کو پورا کرنے کے لئے ہوتا ہے اور جو لوگ نبیوں پر معترض ہیں وہ گویا اس بات پر اعتراض کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انسانی پیدائش کی غرض کو کیوں پورا کرنے لگا ہے۔آج کل کے معترضین مسلمانوں میں سے بھی ہیں۔باوجود اس کے کہ یہ