خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 385
خطبات مسرور جلد پنجم 385 خطبہ جمعہ 21 ستمبر 2007 ء قرآن کریم جہاں سابقہ دینوں پر اپنی برتری ثابت کرتا ہے وہاں اس کے علوم و معرفت کے خزانے موجودہ اور آئندہ علوم کا بھی احاطہ کئے ہوئے ہیں۔کونسا علم ایسا ہے جو اس میں بیان نہ ہوا ہو۔وہ علوم جن کے متعلق چودہ سو سال پہلے ایک عام مسلمان کو ، قرآن کریم پڑھنے والے کو کوئی فہم و ادراک نہیں تھا ، وہ اس میں بیان ہوئے ہوئے ہیں جو آج سچ ثابت ہورہے ہیں۔تو یہ مختلف خزا نے جو قرآن کریم میں بھرے ہوئے ہیں، یہ احکامات جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیئے ہوئے ہیں، یہ ایک علیحدہ مضمون ہے اس وقت یہاں ان کا ذکر نہیں ہوگا۔اس وقت رمضان کے حوالے سے میں بات کر رہا ہوں۔جس آیت کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے اس سے اگلی آیت بھی جوئیں نے تلاوت کی ہے، اس میں بھی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ یعنی رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں اور جس کے بارے میں قرآن اتارا گیا ہے۔پس یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن کے نزول کا آغاز ہوا۔محدثین تاریخوں کے اختلاف کے ساتھ عموماً قرآن کریم کے نزول کو رمضان کے مہینے میں بتاتے ہیں کہ اس کا آغاز رمضان میں ہوا جس میں آنحضرت ﷺ پر پہلی وحی اتری اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (سورة العلق: (2) یعنی اپنے رب کا نام لے کر پڑھ جس نے پیدا کیا ہے۔پس اس پہلی وحی سے جو اُتری اس سے اس طرف توجہ دلا دی کہ تمام کا ئنات اور ہر چیز کو پیدا کرنے والا خدا تعالیٰ ہے۔اس لئے وہی حقدار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔اس سورۃ کو یعنی سورۃ علق کو اس بات پر ختم کیا گیا ہے کہ اللہ کا قرب پانے کے لئے اس کے حضور سجدہ اور عبادت ہی ایک ذریعہ ہے۔پس قرآن کریم کا اس مہینے میں نزول سب سے پہلی توجہ اس طرف دلاتا ہے کہ اس شکرانے کے طور پر کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم نازل فرمایا جس کی تعلیم پر عمل کر کے ایک مومن اس کا قرب پانے والا بن سکتا ہے، ہمیں حکم دیا کہ تم عبادتوں کی طرف توجہ دو اور عبادات میں نکھار پیدا کرنے کے لئے ، تزکیۂ نفس کے لئے ، ایک عبادت جو خدا تعالیٰ نے ہمیں بتائی وہ رمضان کے روزے ہیں۔یہ ایک ایسا مجاہدہ ہے، یہ ایک ایسی عبادت ہے جس کی جزا بھی خدا تعالیٰ نے خود اپنے آپ کو بتایا ہے۔پس تبھی بار بار ان چند آیات میں روزوں کی تفصیلات اور احکامات دیئے ہیں کہ ایک مومن ان کی اہمیت کو سمجھنے میں کوتاہی نہ کرے۔پہلی آیت میں بھی فرمایا کہ روزوں کی طاقت اگر کسی وجہ سے نہ ہو تو دوسرے دنوں میں پورے کر لو، لیکن روزے فرض ہیں۔اس سے پہلے فرمایا تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں اس میں پھر قرآن کے نزول کا ذکر کر کے فرمایا اور یہ کہ قرآن تمہارے لئے ہدایت کا باعث ہے۔اس کا ذکر کر کے پھر اس طرف توجہ دلائی کہ روزے فرض ہیں۔کسی وجہ سے نہ رکھ سکو تو بعد میں پورے کر لو۔پس روزوں کی اتنی اہمیت ہے کہ اس کا بار بار ذکر فرمایا جارہا ہے۔یہ عبادت ایسی ہے جو اصلاح عمل کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔اس سے اعمال کی اصلاح بھی