خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 384 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 384

384 خطبہ جمعہ 21 ستمبر 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم اور تقویٰ کے لئے مجاہدہ ضروری ہے۔خدا کی رضا کے حصول کے لئے اس کی راہ میں قربانی ضروری ہے۔ہاں یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہماری حالتوں اور ہماری مجبوریوں کو دیکھتے ہوئے جو سہولتیں ہمیں مہیا فرمائی ہیں ان سے اس حد تک فائدہ اٹھائیں جو جائز ہے اور اللہ تعالیٰ کی حدود کو توڑنے والے نہ بنیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: وہ شخص جس کا دل اس بات سے خوش ہے کہ رمضان آگیا اور میں اس کا منتظر تھا کہ آوے اور روزہ رکھوں اور پھر وہ بوجہ بیماری کے روزہ نہیں رکھ سکا تو وہ آسمان پر روزے سے محروم نہیں ہے۔اس دنیا میں بہت لوگ بہانہ جو ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جس طرح اہلِ دنیا کو دھوکا دے لیتے ہیں ویسے ہی خدا کو فریب دیتے ہیں۔بہانہ جو اپنے وجود سے آپ مسئلہ تراش کرتے ہیں اور تکلفات شامل کر کے ان مسائل کو صحیح گردانتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ صیح نہیں۔تکلفات کا باب بہت وسیع ہے۔اگر انسان چاہے تو اس ( تکلف ) کی رو سے ساری عمر بیٹھ کر نماز پڑھتا رہے اور رمضان کے روزے بالکل نہ رکھے۔مگر خدا اس کی نیت اور ارادہ کو جانتا ہے جو صدق اور اخلاص رکھتا ہے۔خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کے دل میں درد ہے اور خدا تعالیٰ اسے ثواب سے زیادہ بھی دیتا ہے کیونکہ در دول ایک قابل قدر شے ہے۔حیلہ جو انسان تاویلوں پر تکیہ کرتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ تکیہ کوئی شے نہیں۔فرمایا کہ ”جب میں نے چھ ماہ روزے رکھے تھے تو ایک دفعہ ایک طائفہ انبیاء کا مجھے ( کشف میں ) ملا اور انہوں نے کہا کہ تو نے کیوں اپنے نفس کو اس قدر مشقت میں ڈالا ہوا ہے، اس سے باہر نکل۔فرماتے ہیں کہ اسی طرح جب انسان اپنے آپ کو خدا کے واسطے مشقت میں ڈالتا ہے تو وہ خود ماں باپ کی طرح رحم کر کے اسے کہتا ہے کہ تو کیوں مشقت میں پڑا ہوا ہے“۔(ملفوظات جلد دوم صفحه 564 جدید ایڈیشن مطبوعه ربوه تو یہ ہے اصل روح جس کے تحت روزہ رکھنا چاہئے۔اور ہر مومن کو، ہر احمدی کو یہ روح اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہ جذبہ اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔بہانہ جوئیوں سے ہمیشہ بچنا چاہئے۔اللہ کرے کہ ہم سب اس تعلیم اور اس روح کو سمجھنے والے ہوں۔اس عظیم ہدایت سے فیض پانے والے ہوں جو قرآن کریم کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے اتاری ہے، جس میں ایسی باتیں ہیں جو بغیر کسی مقصد کے بیان نہیں کی گئیں۔اللہ تعالیٰ کا ہر حکم بڑا با مقصد ہے، ہمارے فائدہ کے لئے ہے بلکہ اس نے ان تمام باتوں کا احاطہ کیا ہوا ہے جو روحانی اور اخلاقی قدریں بڑھانے والی ہیں۔قرآن کریم میں ایسی باتیں بھی بیان ہوئی ہیں جن کا دنیاوی علوم سے بھی واسطہ ہے۔ان کے لئے بھی یہ تعلیم ہر قسم کے دلائل اور براہین اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔