خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 386 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 386

خطبات مسرور جلد پنجم 386 خطبہ جمعہ 21 ستمبر 2007ء ہوتی ہے، بہت سی بُرائیوں سے انسان خدا کی خاطر بچتا ہے ، بہت سی جائز باتوں کو وقتی طور پر خدا کی خاطر ترک کرتا ہے۔تبھی تو اللہ تعالیٰ نے خود اس کی جزا اپنے آپ کو قرار دیا ہے اور یہ سب باتیں یعنی عبادت کی تفصیلات بھی اور نیک اعمال کی تفصیلات بھی اور برے اعمال کی تفصیل بھی ، یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرما دی ہیں اور یہ فرما کر کہ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ فرمایا کہ یہ قرآن جو ہم نے رمضان میں اتارا ہے یا رمضان کی بابت اتارا ہے یہ ایک عظیم کتاب ہے، هُدًى لِلنَّاسِ ہے، تمام انسانوں کے لئے ہدایت اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ہر زمانے کے انسان کے لئے ہدایت ہے۔اب کسی نئی شریعت کی ضرورت نہیں ہے۔یہاں شریعت مکمل ہوگئی بشر طیکہ کوئی اس ہدایت کو لینے والا بنے ، اس سے فائدہ اٹھانے والا بنے۔ورنہ جو ظلم پر تلے ہوئے ہیں، جو اپنی جان پر ظلم کرنا چاہتے ہیں، دین کو تو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے ، اپنی جان پر ہی ظلم کر رہے ہیں۔وہ قرآن کو سن کر بھی خسارے میں رہتے ہیں۔لیکن جو بھی نیک نیتی سے یہ ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے لئے ہدایت ہے اور ہدایت بھی ایسی کہ فرمایا وَبَيِّنَةٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ یعنی یہ ایسی ہدایت ہے کہ جس میں حق و باطل میں فرق کرنے کے لئے دلائل بھی ہیں اور کھلے نشانات بھی ہیں۔پس بدقسمت ہے وہ جو دلائل اور نشانات کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے لیکن خوش قسمت ہیں ہم جو اس کتاب کو ماننے والے ہیں جو تمام دنیا کے انسانوں کے لئے ہدایت ہے اور ہدایت کا صرف دعوی نہیں بلکہ قرآن کریم نے ہمیں ہر ہدایت پر عمل کرنے کی جو نصیحت کی ہے، جب حکم دیا ہے تو اس کی دلیل بھی دی ہے کہ جب عمل کرو گے تو اس کے فوائد کیا ہوں گے۔اگر عمل نہیں کرتے تو اس کے نقصانات کیا ہیں۔اگر تم بُرائیاں کر رہے ہو تو ان کے کیا نقصانات ہیں۔پھر یہ بھی ہماری خوش قسمتی ہے جو ہم اس قرآن کو مانتے ہیں کہ قرآن اپنے حق پر ہونے کی دلیل بھی پیش کرتا ہے۔اپنے آخری اور کامل دین ہونے کی دلیل بھی پیش کرتا ہے۔شرعی کتاب ہونے کی دلیل بھی پیش کرتا ہے اور باطل کو صرف باطل کہہ کر رد نہیں کرتا بلکہ تمام ادیان باطلہ کے باطل ہونے کے دلائل بھی دیتا ہے۔پس فرمایا کہ جب ایسی کتاب تمہیں مل جائے تو اللہ تعالیٰ کا عبد بننے کے لئے تمہیں اپنی کوشش زیادہ کرنی چاہئے ، عبد بننے کے معیار بڑھانے کے لئے تمہیں ان ہدایات پر عمل کرنا چاہئے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دی ہیں اور اُن میں سے ایک یہ ہے کہ رمضان کے روزے رکھو تا کہ اپنے روحانی معیار کو بڑھا سکو۔اور جب ان روزوں کی وجہ سے روحانی معیار بڑھیں، اللہ کا قرب حاصل ہو تو اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو، اس نے ہم پر جو احسان کیا ہے کہ ہمیں اس گروہ میں شامل کیا جو اس کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے والے ہیں۔ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمایا جنہوں نے اس قرآن کو تخفیف کی نظر سے نہیں دیکھا، اس کے حکموں پر سے اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گزر گئے بلکہ اس کی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرنے والے بنے۔اس بات پر شکر کرتے ہوئے جب ہم قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرنے والے ہوں گے، اس ہدایت سے فیض یاب ہونے والے ہوں گے جو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اتاری ہیں ، رمضان کے روزوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق پورا کرنے والے ہوں گے تو