خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 383 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 383

خطبات مسرور جلد پنجم 383 خطبہ جمعہ 21 ستمبر 2007 ء پس یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ صرف فدیہ دے کر، اس کا مطلب یہ ہے کہ عام حالات میں ، چھوٹی یا عارضی بیماری میں بھی فدیہ دیا جا سکتا ہے اور یہ ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نفل کے طور پر تمہارے لئے بہتر ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے لئے روزہ فرض کیا ہے لیکن اسلام کیونکہ دینِ فطرت ہے اس لئے یہ ختی نہیں کہ کیونکہ تم نے روزہ نہیں رکھا اس لئے تمہارے اندر تقویٰ پیدا نہیں ہوسکتا، تم اللہ تعالیٰ کی رضا کبھی حاصل نہیں کر سکتے۔فطری مجبوریوں سے فائدہ تو اٹھاؤ لیکن تقوی بھی مد نظر ہو کہ ایسی حالت ہے جس میں روزہ ایک مشکل امر ہے تو اس لئے روزہ چھوڑا جا رہا ہے، نہ کہ بہانے بنا کر۔پھر اس کا مداوا اس طرح کرو کہ ایک مسکین کو روزہ رکھواؤ۔یہ نہیں کہ بہانے بناتے ہوئے کہہ دو کہ میں روزہ رکھنے کی ہمت نہیں رکھتا، پیسے میرے پاس کافی موجود ہیں ، کشائش ہے، غریب کو روزہ رکھوا دیتا ہوں۔ثواب بھی مل گیا اور روزے سے جان بھی چھوٹ گئی۔نہ یہ تقویٰ ہے اور نہ اس سے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو سکتی ہے۔اگر نیک نیتی سے ادا نہ کی گئی نمازوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نمازیوں کے منہ پر ماری جاتی ہیں تو جو فدیہ نیک نیتی سے نہ دیا گیا یا بدنیتی سے دیا گیا ہوگا، یہ بھی منہ پر مارا جانے والا ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ فدیہ تو اس جیسوں کے واسطے ہو سکتا ہے جو روزہ کی طاقت کبھی بھی نہیں رکھتے۔ورنہ عوام کے واسطے جو صحت پا کر روزہ رکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں صرف فدیہ کا خیال کرنا اباحت کا دروازہ کھول دینا ہے یعنی ایسے خود ہی ایسے راستے کھول دیں گے جہاں جائز نا جائز کی وضاحتیں شروع ہو جائیں گی، تشریحیں شروع ہو جائیں گی ، فرمایا کہ جس دین میں مجاہدات نہ ہوں وہ دین ہمارے نزدیک کچھ نہیں۔اس طرح سے خدا تعالیٰ کے بوجھوں کو سر پر سے ٹالنا سخت گناہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ میری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں ان کو ہی ہدایت دی جاوے گی۔بدر جلد 6 نمبر 43 مورخه 24/ اکتوبر 1907ء صفحه (3) پس جب انسان بہانوں سے نرمی اور سہولت کے راستے تلاش کرتا ہے تو دین سے ہٹتا چلا جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ۔وَاَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ۔پس جو شخص دلی خوشی سے اور فرمانبرداری کرتے ہوئے کوئی نیک کام کرے گا تو یہ اس کے لئے بہتر ہوگا اور اگر تم علم رکھتے ہو تو تم سمجھ سکتے ہو کہ تمہارا روزے رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے۔ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ علاوہ روحانی ترقی کے روزہ تمہاری جسمانی صحت کے لئے بھی ضروری ہے اور آجکل کی سائنس اور ڈاکٹر ز بھی یہ ہی کہتے ہیں۔پس ہر مسلمان کا فرض ہے کہ ہمیشہ پہلے اس حکم کو ذہن میں رکھے کہ تقویٰ کے لئے روزہ کی فرضیت کی گئی ہے