خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 311
خطبات مسرور جلد پنجم 311 خطبہ جمعہ 27 جولائی 2007ء کرتے ہوئے مہمان اس پر ناجائز بوجھ نہیں ڈالے گا اس وقت تک محبت و پیار کا تعلق قائم رہے گا۔تو یہ مہمان کو کہا ہے اگر تم نا جائز بوجھ ڈال رہے ہو اور لمبی مہمان نوازی چل رہی ہے تو پھر یہ مہمان نوازی نہیں بلکہ پھر یہ صدقہ بن جاتا ہے اور صدقہ بھی زبر دستی کا جو تم اس سے لے رہے ہو۔پس ایک حسین معاشرے کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ دونوں فریق اپنے حق کو پہچان کر ادا کریں۔یہاں جلسے پر دوسرے ممالک سے لوگ آتے ہیں۔فاصلے اور جہازوں کی سیٹوں کی بکنگ کی وجہ سے زیادہ ٹھہرنا پڑتا ہے، مجبوری ہے۔اس لئے جماعتی نظام بھی پندرہ دن کی مہمان نوازی کرتا ہے۔پس تمام مہمان جو خالصتاً اس مقصد کے لئے آئے ہیں کہ جلسہ سے استفادہ کریں اور دعاؤں کے وارث بنیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسہ میں شامل ہونے والوں کے لئے کی ہیں، اس بات کا خیال رکھیں کہ بجائے اس کے کہ جماعتی نظام یا ان کے دوست احباب ایسا اظہار کریں جس سے اکرام ضیف پر زد پڑتی ہو تو خود ہی اپنے پروگرام ایسے رکھیں کہ پندرہ دن میں یا جو بھی انہوں نے پہلے آکر اپنے میزبان کو وقت بتایا ہے واپسی ہو جائے۔پاکستان سے آنے والوں کی بھی اکثریت تو مجھے ملی ہے جو جلدی جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور خالصتاً جلسے کی نیت سے آئے ہیں لیکن بعض یہاں رہ کر اپنے کام بھی کرتے رہتے ہیں اور جماعت پر بوجھ بھی ڈالتے ہیں۔اسی طرح چند ایک ایسے بھی ہیں جو اسائلم کی نیت سے آتے ہیں۔گزشتہ سال بھی اسی طرح کچھ لوگ آئے تھے تو ہمیشہ میں واضح کرتا ہوں ، اب بھی واضح کر دوں کہ جلسہ پر آنے والے چاہے وہ ہندوستان سے آئے ہیں یا بنگلہ دیش سے آئے ہیں یا پاکستان سے آئے ہیں یا کسی بھی ملک سے آئے ہیں ان کو برٹش ایمبیسی نے ویزا اس لئے دیا ہے کہ انہوں نے جلسہ میں شامل ہونا ہے۔پس یہ اعتماد جو ایمبیسیز جماعت کے ممبران پر کرتی ہیں، انہیں ٹھیس نہ پہنچائیں اس سے جماعت کی بھی بدنامی ہوتی ہے اور آئندہ سال کے لئے جو لوگ جلسہ پر آنا چاہتے ہیں انہیں بھی اس وجہ سے کہ تمہارے کچھ لوگ جلسہ کے نام پر گئے تھے اور واپس نہیں آئے ، ویزا دینے سے انکار ہو جاتا ہے۔اس بارے میں ایک اور بات یا درکھیں کہ چند لوگوں نے یورپ کے دوسرے ممالک میں جا کر اسائلم کیا تھا، اس کی بھی اجازت نہیں ہے۔پس ہمیشہ یا درکھیں کہ جلسہ پر آنے کی نیت کو نیک رکھیں اور جلسہ کی برکات سے فیضیاب ہونے کے بعد جتنی جلدی واپسی ہوسکتی ہے کریں۔پھر ایک بات جس کی طرف مہمانوں اور میز بانوں دونوں کو توجہ دلانی چاہتا ہوں یہ ہے کہ اس میں سے باہر سے آنے والے ملکوں کے مہمان بھی ہیں ان کو توجہ دلانی ہے اور یہاں اس ملک کے رہنے والے جو اس جلسہ میں