خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 310 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 310

310 خطبہ جمعہ 27 جولائی 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم اس وقت جلسہ کے تعلق سے کچھ توجہ مہمانوں کو بھی دلانا چاہتا ہوں۔کچھ باہر سے آنے والے اس جلسہ میں پہلی دفعہ شامل ہورہے ہیں اور اکثریت کو کئی سالوں سے آنے والوں کی ہے لیکن اس اکثریت کو بھی بعض امور کی یاد دہانی کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی طرح چند باتوں کی طرف کارکنان کو بھی توجہ دلاؤں گا گو کہ پہلے بہت سی باتوں کی طرف توجہ دلا چکا ہوں۔آنحضرت ﷺ نے مہمانوں اور میزبانوں کو ایک حدیث میں اس طرح تو جہ دلائی ہے کہ مہمانوں اور میزبانوں دونوں کو ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہئے۔ایک حدیث میں آتا ہے، آپ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے مہمان کی تکریم کرے۔اس کی خصوصی مہمان نوازی ایک دن رات ہے۔جبکہ عمومی مہمان نوازی تین دن تک ہے اور تین دن سے زائد صدقہ ہے۔مہمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اتنا عرصہ مہمان نواز کے پاس ٹھہرا رہے کہ میزبان کو تکلیف میں ڈالے۔ابوداؤد کتاب الاطعمة باب فى الضيافة حديث نمبر 3748) ایک مومن کے لئے مہمان کی مہمان نوازی بھی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان کی ایک شرط ہے اور فرمایا کہ مہمان کی تکریم کرے۔تکریم کیا ہے؟ یعنی خوش دلی سے اس کی مہمان نوازی کرے، کھلے ہاتھوں سے اس کا استقبال کرے، گھر میں لائے ، اس کے سامنے کوئی ایسی بات نہ کرے جس سے اس کے جذبات کو تکلیف پہنچے۔اس کی عزت افزائی کرے اور نہ صرف منہ سے بلکہ اپنے ہر عمل سے بھی مہمان سے انتہائی خلوص کا سلوک کرے اور اس کو کسی بھی عمل سے یہ اشارہ تک نہ ہو کہ اس کا آنا میزبان کے لئے مشکل کا باعث بن گیا ہے۔اپنے وسائل کے لحاظ سے بہترین رنگ میں اس کی رہائش اور خوراک کا انتظام کرے اور یہ سب کچھ ایک مومن اپنے مہمان کے لئے اس لئے کر رہا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرے اور ہر ایک کے اپنے اپنے وسائل اور بعض مجبوریاں ہوتی ہیں اس لئے فرمایا کہ ایک دن تو تکلیف برداشت کر کے بھی تکریم کرنا پڑے تو کرو اور خاص تکلف کرو، یہی تکریم ہے۔اس کے بعد پھر عمومی مہمان نوازی ہے اور مہمان کو یہ نصیحت فرمائی کہ تم بھی حقیقت کو سامنے رکھو اور اپنے میزبان پر زیادہ بوجھ نہ بنو۔اور اس کو یہ بتانے کے لئے کہ تمہارا اپنے میزبان پر زیادہ بوجھ ڈالنا اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک پسندیدہ فعل نہیں ہے، فرمایا تین دن سے زیادہ کی مہمان نوازی پھر صدقہ بن جاتا ہے اور صدقہ تو صرف انتہائی غریب اور ضرورت مند کو دیا جاتا ہے۔پس یہ ایسا سمویا ہوا حکم ہے جو مہمان اور میزبان دونوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ ان کے حقوق و فرائض کیا کیا ہیں اور اس کو بلاوجہ کے تکلفات سے بھی بچاتا ہے۔اسی طرح میزبان کو بھی جیسا کہ میں نے کہا توجہ دلاتا ہے اور مہمان کو بھی تا کہ دونوں کے تعلقات محبت اور پیار قائم رہیں۔تو جب تک میزبان کا خیال